56 لاکھ ٹیکس دہندگان کے مقابلے میں 4 کروڑ کرپٹو اکاؤنٹس، بڑا سوال اٹھ گیا

0
22
56 لاکھ ٹیکس دہندگان کے مقابلے میں 4 کروڑ کرپٹو اکاؤنٹس، بڑا سوال اٹھ گیا

اسلام آباد: پاکستان میں ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں تقریباً 4 کروڑ افراد کے پاس کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس موجود ہیں، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد اس کے مقابلے میں تقریباً 56 لاکھ ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے بڑھتے ہوئے رجحان، ان کی ریگولیشن اور ٹیکس نظام میں شمولیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے بارے میں تیزی سے آگاہ ہو رہی ہے اور مالیاتی نظام میں نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
اتھارٹی کے چیئرمین کے مطابق ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو قانونی اور منظم دائرے میں لانے کے ساتھ ساتھ کرپٹو صارفین کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا بھی اہم اہداف میں شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کو حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے بجٹ کا اب تک تقریباً 8 فیصد استعمال ہوا ہے۔ پاکستان کا ہدف یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور اسلامی مالیاتی اصولوں کو یکجا کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط بنائی جائے اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کے لیے جدید ڈیجیٹل ذرائع کو فروغ دیا جائے۔
اجلاس میں عالمی سطح پر مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف ممالک متبادل مالیاتی ذرائع اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو تیزی سے اختیار کر رہے ہیں، جبکہ ہانگ کانگ سمیت بعض مالیاتی مراکز بلاک چین پر مبنی مالیاتی مصنوعات متعارف کرا چکے ہیں۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے اسے مناسب قوانین اور نگرانی کے ذریعے منظم کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ ان کے مطابق متعدد عالمی کمپنیوں نے پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں کام کرنے کے لیے اجازت ناموں کی درخواستیں بھی دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 5 ستمبر کے بعد غیر قانونی طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
موبائل فون ٹیکس میں کمی کی سفارش
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس اور ان کی قیمتوں کے تعین کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں کے تعین کے لیے کسٹمز حکام کو ایک شفاف اور مؤثر طریقہ کار تیار کرنا چاہیے۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو قیمتوں کے تعین کا نظام بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے موبائل فونز پر عائد ٹیکسز میں کمی کی سفارش بھی کر دی۔
سینیٹر عبدالقادر نے تجویز دی کہ موبائل فونز پر ٹیکس کے مکمل خاتمے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اس پر ایف بی آر حکام نے واضح کیا کہ ٹیکس عائد کرنے یا ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
کمیٹی کی رکن سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کا مقصد عوام اور کاروباری طبقے کے لیے سہولت پیدا کرنا ہونا چاہیے، جبکہ اضافی ٹیکسز اور مختلف لیویز سے صارفین پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے بھی پالیسی سازی میں طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
کیبنٹ سیکرٹری کامران علی افضل نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مالیاتی نظام میں اہم تبدیلی قرار دیا، تاہم انہوں نے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی مخالفت کی۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے سے متعلق مزید معلومات اور تفصیلات پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی سے طلب کر لیں۔56 لاکھ ٹیکس دہندگان کے مقابلے میں 4 کروڑ کرپٹو اکاؤنٹس، بڑا سوال اٹھ گیا

Leave a reply