
اسلام آباد: دودھ روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، تاہم بازار میں دستیاب دودھ کے معیار اور اس میں ممکنہ ملاوٹ کے باعث صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جس دودھ کا استعمال کر رہے ہیں وہ کس حد تک معیاری ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف دودھ کا سفید رنگ، گاڑھا پن یا ذائقہ اس کے خالص ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ بعض اوقات پانی، نشاستہ اور دیگر اجزا کی ملاوٹ دودھ کی ظاہری شکل تبدیل کیے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔
گھریلو سطح پر چند آسان طریقوں سے دودھ کے معیار کا ابتدائی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پانی کی ملاوٹ
دودھ میں پانی کی موجودگی کا اندازہ لگانے کے لیے اسے کسی صاف، ہموار اور قدرے ترچھی سطح پر ایک قطرے کی صورت میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر دودھ بہت تیزی سے بہہ جائے اور سطح پر کوئی نمایاں نشان نہ چھوڑے تو پانی کی ملاوٹ کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ طریقہ حتمی ثبوت نہیں، کیونکہ دودھ کی قدرتی چکنائی اور ساخت بھی اس کے بہاؤ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ڈٹرجنٹ کی موجودگی
دودھ میں غیر معمولی جھاگ بننے کی صورت میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ دودھ کو پانی کے ساتھ ملا کر ہلانے پر اگر بہت زیادہ جھاگ پیدا ہو اور دیر تک برقرار رہے تو یہ ڈٹرجنٹ جیسی کسی چیز کی ملاوٹ کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے۔
خالص دودھ کو ہلانے سے بھی کچھ جھاگ بن سکتی ہے، لیکن عام طور پر وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی۔
اسٹارچ کی جانچ
نشاستہ یا اسٹارچ کی ممکنہ ملاوٹ کے لیے آیوڈین ٹیسٹ ایک معروف ابتدائی طریقہ ہے۔ دودھ کے تھوڑے سے نمونے میں آیوڈین کے چند قطرے ڈالنے پر اگر رنگ نمایاں طور پر نیلا یا نیلا سیاہ ہو جائے تو اسٹارچ کی موجودگی کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اس طرح کے گھریلو ٹیسٹ کو حتمی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے۔
دودھ ابالتے وقت کن باتوں پر نظر رکھیں؟
دودھ گرم یا ابالتے وقت اس کی بو، ساخت اور ملائی کی تہہ پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ تازہ دودھ میں گرم ہونے کے بعد ملائی بننا معمول کی بات ہے۔
اگر دودھ سے غیر معمولی بو آئے، اچانک پھٹ جائے یا اس کی ساخت میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو اسے استعمال کرنے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ تاہم ایسی تبدیلی ہمیشہ ملاوٹ ہی کی وجہ سے نہیں ہوتی، دودھ کے خراب ہونے یا نامناسب درجہ حرارت پر رکھنے سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
خریداری کے وقت بھی احتیاط ضروری
کھلا دودھ خریدتے وقت اس کے رنگ، بو، ذائقے اور مستقل مزاجی میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر ایک ہی سپلائر سے روزانہ دودھ لیا جاتا ہو تو مختلف دنوں کے دودھ کا معیار موازنہ کرنے سے بھی کسی نمایاں تبدیلی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
پیکٹ والا دودھ خریدتے وقت پیکنگ، سیل، تیاری کی تاریخ اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔
دودھ خریدنے کے بعد اسے طویل وقت تک کمرے کے درجہ حرارت پر رکھنے کے بجائے مناسب طریقے سے ٹھنڈا رکھنا بھی ضروری ہے۔ دودھ کو ابالنا یا مناسب طریقے سے گرم کرنا غذائی تحفظ کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن ابالنے سے ہر قسم کی ملاوٹ ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی دودھ کے خالص ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔
حتمی تصدیق کیسے ہوگی؟
ماہرین کے مطابق گھریلو تجربات صرف ابتدائی اسکریننگ کے لیے مددگار ہو سکتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر دودھ کو یقینی طور پر خالص یا ملاوٹی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اگر دودھ کے معیار پر مسلسل شک ہو تو مستند فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے نمونے کی جانچ کرانا زیادہ قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔ ضرورت پڑنے پر متعلقہ فوڈ سیفٹی حکام سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دودھ کی خالصت کا فیصلہ صرف رنگ، گاڑھے پن، ذائقے یا کسی ایک گھریلو ٹیسٹ کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے؛ حتمی نتیجے کے لیے سائنسی لیبارٹری ٹیسٹ ہی زیادہ قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں۔









