میر رضا کیس: تفتیشی افسر نے موت کو قتل قرار دے دیا

0
14
میر رضا کیس: تفتیشی افسر نے موت کو قتل قرار دے دیا

کراچی میں میر رضا کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل کا واقعہ ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سراج لاشاری سے واقعے کی نوعیت کے بارے میں دریافت کیا۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم کی رائے میں میر رضا کو قتل کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق موجودہ ٹیم نے تحقیقات نئے سرے سے شروع کیں اور مختلف زاویوں سے شواہد جمع کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس میں بڑی تعداد میں شواہد ڈیجیٹل نوعیت کے ہیں، جن کا تجزیہ تفتیش کا اہم حصہ ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول ملا ہے، تاہم تفتیشی ٹیم تاحال مبینہ پستول برآمد نہیں کرسکی۔ اسلحے سے متعلق شواہد کی تلاش بھی جاری ہے۔

سراج لاشاری نے مزید بتایا کہ میر رضا کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک رپورٹ ابھی تفتیشی ٹیم کو موصول نہیں ہوئیں۔ ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کی توقع ہے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات کسی فرد کے دباؤ کے بجائے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کسی شخصیت کو جواب دہ نہیں بلکہ اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔

جبران ناصر کا جوڈیشل کمیشن کو مزید بااختیار بنانے کا مطالبہ

دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں میر رضا کیس کی سماعت کے دوران مقتول کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر عدم اعتراض کا اظہار کیا، تاہم کمیشن کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا۔

جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن میں مزید ٹرمز آف ریفرنس شامل کیے جائیں تاکہ معاملے کی جامع اور مؤثر تحقیقات ممکن ہوسکیں۔

ان کے مطابق سرکاری وکیل نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم، یعنی جے آئی ٹی، بنانے کی مخالفت کی اور کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا بنیادی کام تفتیش کرنا نہیں ہوتا۔

جبران ناصر نے عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر مختصر مدت میں تفصیلی سماعت کا موقع ملنا قابلِ قدر ہے، اگرچہ عدالت ان کی تمام استدعا ماننے کی پابند نہیں۔

انہوں نے تفتیشی افسر کے عدالت میں قتل سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا موجودہ تفتیشی ٹیم نے اس سے قبل کیس پر کام کرنے والی ٹیم کے ارکان کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

وکیل کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے آئی جی سندھ کو خط لکھنے کی بات کی ہے۔ جبران ناصر نے اس پر سوال اٹھایا کہ اگر جے آئی ٹی میں وفاقی اداروں کو شامل کرنا مقصود ہے تو صرف صوبائی سطح پر خط لکھنے سے یہ عمل کس طرح ممکن ہوگا۔

کیس میں حتمی پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کا انتظار ہے، جن کی روشنی میں تحقیقات کی سمت اور واقعے سے متعلق حتمی قانونی مؤقف مزید واضح ہوسکتا ہے۔

Leave a reply