
اسمارٹ فونز اور آن لائن اکاؤنٹس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سیکیورٹی بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ صارفین عام طور پر آن لائن اکاؤنٹس کے لیے پاس ورڈ جبکہ موبائل فون یا دیگر ڈیوائسز کو لاک کرنے کے لیے پن کوڈ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دونوں میں زیادہ محفوظ کون سا طریقہ ہے؟
ماہرین کے مطابق پاس ورڈ اور پن کوڈ کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ پاس ورڈ عموماً آن لائن اکاؤنٹس سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے اس کے افشا ہونے کی صورت میں ہیکر دور بیٹھ کر بھی متعلقہ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
اس کے برعکس ڈیوائس کا پن عموماً اسی مخصوص ڈیوائس سے منسلک ہوتا ہے اور اسے دور بیٹھ کر کسی دوسرے فون یا کمپیوٹر پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے مناسب سیکیورٹی کے ساتھ استعمال کیا جانے والا ڈیوائس پن کئی صورتوں میں پاس ورڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ثابت ہوسکتا ہے۔
پاس کیز سیکیورٹی کو مزید بہتر بناتی ہیں
آن لائن اکاؤنٹس کے لیے پاس کیز بھی ایک جدید متبادل ہیں۔ پاس کیز میں روایتی پاس ورڈ کے بجائے ڈیوائس کی سیکیورٹی، جیسے پن یا بائیومیٹرک تصدیق، استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس طریقے میں روایتی پاس ورڈ کی طرح حساس معلومات سرور پر محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے فشنگ اور پاس ورڈ چوری کے خطرات کم ہوسکتے ہیں۔
تاہم صرف پن کوڈ استعمال کرنا کافی نہیں۔ اگر پن بہت آسان ہو، مثلاً 1234 یا کوئی عام نمبر، تو اسے اندازہ لگانا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
اس لیے بہتر سیکیورٹی کے لیے منفرد اور مشکل پن کا انتخاب کریں، ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور جہاں دستیاب ہو، پاس کیز اور دو مرحلہ جاتی تصدیق کو ترجیح دیں۔









