اسلام آباد: امریکا اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع پر اصولی اتفاق کرلیا

0
13
اسلام آباد: امریکا اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع پر اصولی اتفاق کرلیا

امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کردی ہے، تاہم توسیع کی حتمی مدت ابھی طے نہیں ہوئی۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں نے ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی برقرار رکھنے پر آمادگی سے آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے جاری ہے اور اب بنیادی سوال یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں کتنے عرصے کی توسیع کی جائے گی۔ موجودہ 60 روزہ جنگ بندی 17 اگست کو ختم ہونا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات موجود تھے۔ جنگ بندی میں توسیع سے مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان کی ثالثی سے شروع ہونے والے مفاہمتی عمل کے تحت دونوں ممالک نے 17 جون کو اسلام آباد میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس عمل کا مقصد تنازع کو مذاکرات کے ذریعے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچانا تھا، تاہم سیکیورٹی ضمانتوں، امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سمیت کئی معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی ممکنہ انتظام کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورۂ تہران کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں بھی امریکا، ایران بالواسطہ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورت حال زیر بحث آئی۔ ایرانی حکام نے پاکستان کے سفارتی کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے اسلام آباد اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو امید افزا قرار دیا۔

آبنائے ہرمز موجودہ تنازع کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے یہ راستہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں، تجارت اور قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

اگرچہ جنگ بندی میں توسیع پر اصولی رضامندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، تاہم اس کی مدت، پابندیوں اور دیگر متنازع معاملات پر حتمی سمجھوتہ ابھی باقی ہے۔ آئندہ دنوں میں ثالثی کے ذریعے ہونے والی بات چیت اس عمل کی سمت کا تعین کرے گی۔

Leave a reply