قرض کی قیمت کون دے گا؟

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافہ محض مالیاتی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ عام شہری کی زندگی، روزگار، کاروبار اور مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔ قرض بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھتا ہے، اور اس بوجھ کا اثر بالآخر ٹیکسوں، مہنگائی اور عوامی سہولتوں کے محدود ہوتے وسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
حکومتی قرضوں میں چند برسوں کے دوران ہونے والا غیر معمولی اضافہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ محض سیاسی بیانات کے بجائے بنیادی معاشی سوالات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ریاست مسلسل قرض لے کر اپنے اخراجات پورے کرتی رہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب بجٹ کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے ماضی کے قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہونے لگتا ہے۔ پھر نئے اسکول، اسپتال، سڑکیں، پانی کے منصوبے اور روزگار پیدا کرنے والی صنعتیں ترجیحات کی فہرست میں پیچھے چلی جاتی ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو مقامی قرض بھی ہے۔ جب حکومت بڑے پیمانے پر ملکی بینکوں سے قرض حاصل کرتی ہے تو نجی شعبے کے لیے دستیاب مالی وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔ صنعت کاروں کو سرمایہ مہنگا ملتا ہے، نئی سرمایہ کاری مشکل ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ نتیجتاً روزگار کے مواقع محدود اور معاشی نمو کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دوسری طرف بیرونی قرضوں کی شرائط بھی معاشی پالیسی کے دائرۂ اختیار کو محدود کر سکتی ہیں۔ جب کسی ملک کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں یا دوسرے قرض دہندگان پر زیادہ انحصار کرنا پڑے تو اسے مالیاتی اہداف، ٹیکس اصلاحات اور اخراجات سے متعلق سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ یوں قرض صرف رقم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ معاشی پالیسی کا ایک اہم عامل بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم بار بار قرض لینے پر مجبور کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا جواب صرف موجودہ حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کی کارکردگی میں تلاش کرنا مسئلے کو محدود کرنا ہوگا۔ پاکستان کا مالیاتی بحران کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ کمزور ٹیکس بنیاد، ٹیکس چوری، غیر ضروری سرکاری اخراجات، خسارے میں چلنے والے ادارے، توانائی کے شعبے کے مسائل اور برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا اس بحران کی بڑی وجوہ میں شامل ہیں۔
اگر ریاست کی آمدنی محدود ہو اور اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں تو قرض ناگزیر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے محض قرض کم کرنے کا نعرہ کافی نہیں۔ حکومت کو آمدنی بڑھانے اور اخراجات کو مؤثر بنانے دونوں محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسے شعبے اور طبقات جو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتے، انہیں مؤثر نظام کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ ساتھ ہی ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے معیشت کو دستاویزی بنانے، ٹیکس چوری روکنے اور نظام کو آسان بنانے پر توجہ دینا ضروری ہے۔
دوسرا اہم قدم حکومتی اخراجات میں ترجیحات کا تعین ہے۔ غیر ضروری مراعات، نمائشی منصوبوں اور ایسے اخراجات جن کا براہِ راست معاشی فائدہ ثابت نہ ہو، ان پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ اشرافیہ سمیت ہر طبقے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ معاشی بحران میں قربانی کا تقاضا صرف عام شہری سے نہیں کیا جا سکتا۔
تیسری ضرورت پیداواری معیشت کی بحالی ہے۔ جب تک ملک میں صنعت، زراعت، برآمدات اور نجی سرمایہ کاری نہیں بڑھے گی، قرضوں کے چکر سے مستقل نجات ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو کاروبار کو سہولت دیں، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال کریں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔
پاکستان کے لیے قرض لینا بذاتِ خود جرم نہیں؛ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی قرض لیتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قرض کہاں خرچ ہوتا ہے اور اس سے مستقبل میں آمدنی یا پیداواری صلاحیت کتنی بڑھتی ہے۔ اگر قرض ایسے منصوبوں پر خرچ ہو جو معیشت کو مضبوط کریں تو وہ سرمایہ کاری بن سکتا ہے، لیکن اگر قرض صرف موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے لیا جائے تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔
اب وقت جذباتی نعروں سے آگے بڑھنے کا ہے۔ حکومت، پارلیمان، کاروباری طبقے، ماہرینِ معیشت اور عوام سب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کب تک پرانے قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لیتا رہے گا۔ قومی خودمختاری صرف سیاسی فیصلوں کا نام نہیں؛ مضبوط معیشت بھی خودمختاری کی بنیادی شرط ہے۔
اگر ہم نے آج مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافے، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور پیداواری شعبوں کی بحالی کو ترجیح نہ بنایا تو قرض کا یہ دائرہ مزید وسیع ہوتا جائے گا۔ لیکن اگر مشکل فیصلے دیانت داری، شفافیت اور مساوی اصولوں کے ساتھ کیے جائیں تو یہی بحران اصلاحات کا نقطۂ آغاز بھی بن سکتا ہے۔
قرض کا اصل بوجھ صرف خزانے پر نہیں ہوتا؛ اس کا سایہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو قرضوں کی معیشت سے نکل کر پیداوار، برآمدات اور خود انحصاری کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو معاشی بے بسی کے بجائے ایک مضبوط اور باوقار مستقبل دے سکتا ہے۔









