
ایپل نے اپنے معروف اسمارٹ فون آئی فون ایکس اور 2018 میں متعارف کرائے گئے 15 انچ میک بک پرو کو اپنی ناکارہ مصنوعات کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایپل اور اس کے مجاز سروس سینٹرز کے لیے ان ڈیوائسز کے نئے پرزے حاصل کرنا اور باقاعدہ ہارڈویئر مرمت فراہم کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
2017 میں متعارف ہونے والا آئی فون ایکس ایپل کی تاریخ کا ایک اہم ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں پہلی بار فیس آئی ڈی، ہوم بٹن کے بغیر ڈیزائن اور کناروں تک پھیلا ہوا او ایل ای ڈی ڈسپلے متعارف کرایا گیا تھا۔ بعد کے کئی آئی فون ماڈلز میں بھی اسی طرز کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کو آگے بڑھایا گیا۔
تاہم آئی فون ایکس کو ناکارہ قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ فون فوراً کام کرنا چھوڑ دے گا۔ موجودہ صارفین اسے پہلے کی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ اصل تبدیلی اس وقت سامنے آئے گی جب فون میں ہارڈویئر کی بڑی خرابی پیدا ہو اور اس کی مرمت کے لیے ایپل سے رجوع کیا جائے۔
ایپل کی پالیسی کے مطابق ناکارہ مصنوعات کے لیے کمپنی کے اسٹورز اور مجاز سروس فراہم کنندگان نئے پرزے آرڈر نہیں کر سکتے، جس کے باعث باضابطہ مرمت کی سہولت دستیاب نہیں رہتی۔
ایپل عموماً کسی پروڈکٹ کی فروخت بند ہونے کے کئی سال بعد اسے ناکارہ قرار دیتا ہے۔ اس سے پہلے پرانی مصنوعات کو ’ونٹیج‘ کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے، جہاں بعض صورتوں میں دستیاب پرزوں کی بنیاد پر محدود مرمت ممکن ہوتی ہے۔
آئی فون ایکس کے لیے نئے بڑے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ 2018 میک بک پرو کے حوالے سے بھی نئی سافٹ ویئر سپورٹ ختم ہو چکی ہے، تاہم میک کی بیٹری بعض حالات میں آخری فروخت کے بعد ایک طویل مدت تک تبدیل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مطلوبہ بیٹری دستیاب ہو۔
مختصر طور پر: آئی فون ایکس رکھنے والے صارفین کو فوری طور پر فون تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ڈیوائس معمول کے مطابق استعمال کی جا سکتی ہے، البتہ مستقبل میں ہارڈویئر خرابی کی صورت میں ایپل کی آفیشل مرمت کے بجائے تھرڈ پارٹی مرمت کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔








