
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی 355 ملکی و غیرملکی شخصیات کے لیے سول اعزازات کی منظوری دے دی ہے۔ اعزازات کی فہرست میں سیاست، سرکاری خدمات، فنون، گلوکاری اور دیگر شعبوں سے وابستہ نمایاں افراد شامل ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا محسن نقوی، احد چیمہ اور محمد اورنگزیب جبکہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کو نشانِ امتیاز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی بی فواد اسداللہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کو ہلالِ امتیاز جبکہ سیکریٹری تجارت جواد پال کو ستارۂ امتیاز دیا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں پولیس اہلکار کو خطرے سے نکالنے والی زوبیہ خورشید راجہ کو تمغۂ شجاعت سے نوازا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 46 شہدا اور شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے لیے بھی ستارۂ شجاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔
گلوکارہ ترنم ناز اور نشو بیگم کو ستارۂ امتیاز جبکہ اداکارہ غزالہ کیفی کو تمغۂ حسنِ کارکردگی دیا جائے گا۔ علامہ طاہر محمود اشرفی سمیت دیگر شخصیات کے لیے بھی مختلف سول اعزازات منظور کیے گئے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح کے معالجین ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈائبو کو بعد از مرگ نشانِ قائداعظم دیا جائے گا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فدان، وزیر دفاع یاسر گلر اور وزیر تجارت عمر بولات کو ستارۂ پاکستان سے نوازا جائے گا۔
اعزازات کی باقاعدہ تقریب 23 مارچ کو منعقد ہوگی۔
دوسری جانب صدرِ مملکت نے مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے 1,172 اہلکاروں کے لیے فوجی اعزازات کی منظوری بھی دے دی ہے۔ صدر نے 17 اگست کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی سمری بھی منظور کرلی۔
اس کے علاوہ یومِ آزادی اور عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اہل قیدیوں کی سزاؤں میں 100 روز کی خصوصی کمی کی بھی منظوری دی گئی ہے۔









