ایشیا میں شدید گرمی کی لہر، زراعت اور انسانی زندگی کو شدید نقصان

0
11
ایشیا میں شدید گرمی کی لہر، زراعت اور انسانی زندگی کو شدید نقصان

مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک ان دنوں غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں بلند درجہ حرارت نے انسانی صحت، زراعت اور مویشیوں کو متاثر کیا ہے۔ جنوبی کوریا، جاپان، ہانگ کانگ اور چین کے بعض علاقوں میں گرمی کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

جنوبی کوریا کے شہر یانگسان میں درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو ملک میں ریکارڈ ہونے والا بلند ترین درجہ حرارت بتایا جا رہا ہے۔ شدید گرمی کے باعث ہلاکتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مویشی اور فارموں میں موجود آبی حیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

شدید موسم نے کسانوں کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں آلو زمین سے نکالنے پر نرم اور خراب حالت میں ملے، جبکہ تربوز کی فصل بھی معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں میں انہوں نے اس نوعیت کی صورتحال نہیں دیکھی۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے موجودہ گرمی کی شدت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ہنگامی نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جاپان میں بھی متعدد علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 36.9 ڈگری تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ چین کے سنکیانگ خطے میں بھی انتہائی بلند درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ شمالی کوریا میں راتیں بھی غیر معمولی حد تک گرم رہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمی حالات کے ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی شدید گرمی کی لہروں کی شدت بڑھانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں ایسی لہریں زیادہ تواتر اور شدت سے آ سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ زراعت، صحت اور شہری نظام کو بدلتے ہوئے موسم کے مطابق ڈھالنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Leave a reply