‘یہ میری آخری ویڈیو ہو سکتی ہے’، سیالکوٹ سانحے کے بعد مسٹر پتلو کا خودکشی سے متعلق بیان سامنے آگیا

0
34
'یہ میری آخری ویڈیو ہو سکتی ہے'، سیالکوٹ سانحے کے بعد مسٹر پتلو کا خودکشی سے متعلق بیان سامنے آگیا

سیالکوٹ: شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ٹک ٹاکر انصر محمود المعروف مسٹر پتلو کا ویڈیو بیان سامنے آگیا، جس میں انہوں نے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے شدید ذہنی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے خودکشی جیسے خیالات کا بھی اظہار کیا۔

مسٹر پتلو نے اپنے بیان میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سانحے پر گہرا دکھ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے وقت وہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے بلکہ کمر کی تکلیف کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے۔

انصر محمود کے مطابق ان کی شادی کی تقریبات کے سلسلے میں عوام کے لیے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا جانا تھا، جس کا مقصد مستحق افراد کی مالی مدد، غریب بچیوں کی شادیوں میں تعاون اور عوام میں تحائف تقسیم کرنا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریب سے قبل حفاظتی ہدایات پر مشتمل ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی اور پروگرام کے لیے متعلقہ اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے بقول تقریب سے ایک روز قبل کرکٹ کھیلتے ہوئے کمر کی تکلیف بڑھ گئی، جس کے باعث انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع انہیں بعد میں ملی اور انہوں نے صورت حال سامنے آنے پر پروگرام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اسپتال کا ریکارڈ، ایم آر آئی رپورٹس اور جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

شدید ذہنی دباؤ اور خودکشی کے خیالات

اپنے ویڈیو پیغام میں مسٹر پتلو نے کہا کہ واقعے کے بعد وہ شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں اور ان کے قریبی افراد بھی ان سے دور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اپنی جسمانی تکلیف، اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے اور تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے یہ ان کا آخری ویڈیو پیغام ہو۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اعلیٰ عسکری حکام سے اپیل کی کہ ان کے مؤقف کو بھی سنا جائے اور تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے انہیں واقعے کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔

سیالکوٹ میں بھگدڑ کیسے مچی؟

یاد رہے کہ سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز اسپورٹس اسٹیڈیم میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق تقریب سے قبل سوشل میڈیا پر دو کروڑ روپے نقد، ایک گاڑی، 50 موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی انعامات تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد سیالکوٹ سمیت گردونواح کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں شہری اسٹیڈیم پہنچ گئے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق رش بڑھنے اور لوگوں کی بڑی تعداد کے ایک ساتھ داخل ہونے کی کوشش کے دوران بھگدڑ مچی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی انتظامات اور منتظمین کی ذمہ داریوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔

پولیس مقدمہ اور انتظامیہ کا مؤقف

پولیس نے واقعے کے بعد مسٹر پتلو سمیت نو نامزد اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں قتل بالسبب، غیر قانونی اجتماع، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور دیگر دفعات شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس کے مطابق متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری تھی۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ تقریب کے لیے محدود نوعیت کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مبینہ طور پر شرائط کی خلاف ورزی سامنے آنے پر پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کی ذمہ داری اور سوشل میڈیا پر انعامات کے اعلانات کے ذریعے ہجوم جمع کرنے کے معاملے پر تنقید کی تھی۔

واضح رہے کہ مسٹر پتلو کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کے خلاف درج مقدمے میں الزامات تاحال عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔

Leave a reply