
یورپ میں سائبر حملہ آوروں نے سپر مارکیٹوں کے فریج اور فریزر سسٹمز کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک محفوظ رکھنے والے نظام متاثر ہوئے اور بڑی مقدار میں اشیائے خورونوش خراب ہوگئیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یورپی سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن سسٹمز پر دوسری مرتبہ سائبر حملے کیے گئے۔ ان واقعات میں بیلجیئم کی کیریفور اور ڈیلیز جبکہ سویڈن کی آئی سی اے اور کوپ جیسی معروف سپر مارکیٹ چینز متاثر ہوئیں۔
حملہ آوروں نے مبینہ طور پر فریج اور فریزرز کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نظاموں تک رسائی حاصل کی، جس کے باعث کولنگ کا عمل متاثر ہوا اور خوراک خراب ہونے کے بعد اسے تلف کرنا پڑا۔
فریج اور فریزر ہیکرز کا آسان ہدف کیوں؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق صنعتی آلات کو انٹرنیٹ سے غیر محفوظ طریقے سے منسلک کرنا بڑے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ کئی کاروباری ادارے اپنے آلات کو براہ راست انٹرنیٹ سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیکٹری یا کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ ڈیفالٹ پاس ورڈ تبدیل نہ کرنا اور پرانا سافٹ ویئر استعمال کرتے رہنا بھی ہیکرز کے لیے راستہ آسان بنا سکتا ہے۔
بیلجیئم کی ہاوئسٹ یونیورسٹی سے وابستہ سائبر سیکیورٹی محقق لارینس سنگیئر کے مطابق، انٹرنیٹ پر دستیاب غیر محفوظ صنعتی نظام سائبر حملوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے سائبر حملوں کی صلاحیت رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔
اب کم تجربہ رکھنے والے افراد بھی اے آئی ٹولز کی مدد سے سائبر حملوں کی منصوبہ بندی اور مختلف تکنیکوں کے استعمال میں مدد حاصل کرسکتے ہیں، جس سے صنعتی آلات کی سیکیورٹی مزید اہم ہوگئی ہے۔
متاثرہ کمپنیوں نے سیکیورٹی اقدامات شروع کردیے
حملوں کے بعد متاثرہ سپر مارکیٹوں نے اپنے ہیک ہونے والے ریفریجریشن سسٹمز کو انٹرنیٹ سے منقطع کردیا۔ یہ اقدام ریفریجریشن مانیٹرنگ سسٹم فراہم کرنے والی کمپنی ڈینفوس کی ہدایات پر کیا گیا۔
ڈینفوس نے بھی تصدیق کی کہ اس کے سسٹمز ان واقعات سے متاثر ہوئے اور کمپنی متاثرہ صارفین کے ساتھ مل کر سیکیورٹی مسائل حل کرنے اور ضروری اصلاحات کرنے میں مصروف ہے۔
کاروباری اداروں کے لیے اہم انتباہ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کاروباری اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے تمام صنعتی آلات کے انٹرنیٹ کنکشن، پاس ورڈز اور سافٹ ویئر کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
ان کے مطابق مضبوط پاس ورڈز، بروقت سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور غیر ضروری انٹرنیٹ کنکشن ختم کرنا ایسے حملوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے متبادل اور زیادہ محفوظ کنکشن سسٹمز استعمال کرنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ صنعتی آلات کو غیر ضروری طور پر عوامی انٹرنیٹ کے سامنے نہ رکھنا پڑے۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سائبر سیکیورٹی کا مسئلہ اب صرف کمپیوٹرز اور موبائل فونز تک محدود نہیں رہا بلکہ خوراک محفوظ رکھنے والے فریج، فریزر اور دیگر صنعتی مشینیں بھی ڈیجیٹل خطرات کی زد میں آسکتی ہیں۔









