
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.03 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 93.65 ڈالر ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.29 فیصد کمی کے بعد 86.98 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
ماہرین کے مطابق امریکی سیاسی منظرنامے میں تبدیلی اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے امکانات کم ہونے کی توقعات نے عالمی تیل مارکیٹ پر دباؤ ڈالا ہے۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری بھی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔ سپلائی کی صورتحال بہتر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عالمی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے 6 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 387 روپے 81 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی مستقل نہیں بھی ہوسکتی۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی سیاسی فیصلوں اور تیل کے ذخائر میں تبدیلیاں مستقبل میں قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی توانائی مارکیٹ کا رخ بڑی حد تک سفارتی پیش رفت اور خام تیل کی طلب و رسد پر منحصر ہوگا۔









