ہنٹا وائرس کے مشتبہ کیس پر پیراٹروپرز اور طبی ٹیم کی فضائی تعیناتی

0
12
ہنٹا وائرس کے مشتبہ کیس پر پیراٹروپرز اور طبی ٹیم کی فضائی تعیناتی

برطانیہ کی مسلح افواج نے دنیا کے انتہائی دور افتادہ جزیرے Tristan da Cunha پر ایک غیر معمولی طبی امدادی مشن مکمل کیا ہے، جہاں مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے باعث فوری مدد کی ضرورت پیش آئی۔

برطانوی وزارتِ دفاع کیمطابق British Army کے چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی ماہرین کو 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے منتخب کیاگیاتھاجنکو رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے کے ذریعے جزیرے تک پہنچایا گیا۔ یہ طیارہ پہلے RAF Brize Norton سے روانہ ہوا اور راستے میں Ascension Island پر مختصر قیام کے بعد جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع اس دور دراز جزیرے تک پہنچا۔

مشن کے دوران فضائی ایندھن بھرنے کے لیے ایک اور آر اے ایف طیارہ بھی استعمال کیا گیا، جس سے طویل فاصلے کا سفر ممکن بنایا گیا۔ جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی نہ ہونے کے باعث اہلکاروں اور طبی سامان کو پیراشوٹ کے ذریعے اتارا گیا، جو اس نوعیت کی پہلی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

فوجی ٹیم کے ساتھ آکسیجن سمیت ضروری طبی سامان بھی پہنچایا گیا تاکہ ایک برطانوی شہری کو فوری علاج فراہم کیا جا سکے۔ یہ شخص ایک کروز شپ کا مسافر تھا، جس میں ہنٹا وائرس سے متعلق کیسز کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مریض میں علامات بعد میں ظاہر ہوئیں تاہم اس کی حالت اب مستحکم ہے اور اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

تقریباً 200 افراد پر مشتمل یہ جزیرہ دنیا کی سب سے الگ تھلگ انسانی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں طبی سہولیات محدود ہیں اور رسائی زیادہ تر سمندری راستے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ قریبی آباد جزیرہ Saint Helena بھی ہزاروں کلومیٹر دور واقع ہے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی حالات میں کی گئی ایک ہنگامی انسانی امدادی کوشش تھی، جس کا مقصد مریض تک بروقت طبی مدد پہنچانا اور جزیرے پر ممکنہ صحتی خطرات کو کم کرنا تھا۔

Leave a reply