
بین الاقوامی طبی ماہرین نے حالیہ واقعات کے بعد وائرسز کے پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک تازہ طبی تجزیے میں بحری سفر کے دوران سامنے آنے والے ہنٹا وائرس کے کیسز اور ارجنٹائن میں اس وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو عالمی صحت کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ڈچ بحری جہاز میں چند مسافروں کی ہلاکت کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ متاثرہ افراد ممکنہ طور پر ارجنٹائن کے سفر کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بعض اوقات کئی ہفتوں تک علامات ظاہر نہیں کرتا، جس کی وجہ سے اس کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے فضلے یا آلودہ ہوا کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، تاہم بند اور محدود جگہوں جیسے بحری جہاز میں اس کے پھیلنے کے امکانات زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ماحول میں قریبی انسانی رابطہ بیماری کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی بعض اقسام میں شرح اموات کافی زیادہ ہو سکتی ہے اور فی الحال اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر انتہائی اہم ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا متاثرہ افراد پہلے ہی زمین پر موجود کسی علاقے میں وائرس کا شکار ہوئے تھے اور پھر سفر کے دوران علامات سامنے آئیں۔ اسی سلسلے میں مختلف ممالک کے صحتی ادارے متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگا رہے ہیں اور ممکنہ مریضوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں، غیر معمولی موسم، جنگلات کی کٹائی اور انسانی آبادی کی پھیلاؤ نے جنگلی جانوروں اور انسانوں کے درمیان رابطہ بڑھا دیا ہے، جس سے وائرس کے پھیلنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ عالمی وبا کو بروقت روکا جا سکے اور متاثرہ علاقوں میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔









