ماؤں کا عالمی دن: محبت، احترام اور قربانیوں کو خراجِ تحسین

0
2
ماؤں کا عالمی دن: محبت، احترام اور قربانیوں کو خراجِ تحسین

دنیا بھر میں 10 مئی (اتوار) کو ماؤں کا عالمی دن نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ان عظیم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو اپنی زندگی اولاد کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو یہ دن خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

یہ موقع صرف ماؤں تک محدود نہیں بلکہ ان تمام خواتین کے احترام کے لیے ہے جو ماں جیسا کردار ادا کرتی ہیں، جیسے دادی، نانی یا سرپرست خواتین، جو خاندان کی مضبوطی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

تاریخی پس منظر

ماؤں کے عالمی دن کی جڑیں قدیم تہذیبوں تک جاتی ہیں، جہاں یونان اور روم میں دیویوں کے اعزاز میں تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔ جدید دور میں اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز امریکی سماجی کارکن اینا جاروس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1908 میں اپنی والدہ کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی، جس کے بعد مئی کے دوسرے اتوار کو اس دن کے طور پر اپنایا گیا۔

بعد ازاں اینا جاروس خود اس دن کے تجارتی استعمال کے خلاف ہو گئیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ دن محبت اور جذبات کے اظہار کے لیے تھا، نہ کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے۔

مختلف ممالک میں منانے کے انداز

دنیا کے مختلف ممالک میں یہ دن مختلف تاریخوں اور روایات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور امریکہ میں مئی کا دوسرا اتوار مخصوص ہے، جبکہ برطانیہ میں اسے “مدرنگ سنڈے” کہا جاتا ہے جو مارچ میں آتا ہے۔

عرب ممالک میں یہ دن 21 مارچ کو بہار کی آمد کے ساتھ منایا جاتا ہے، جو نئی زندگی اور خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جاپان میں سرخ کارنیشن پھول ماؤں کو پیش کیے جاتے ہیں، آسٹریلیا میں خصوصی تحائف اور خاندانی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ اٹلی میں ماؤں کو گھریلو ذمہ داریوں سے آرام دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار سکیں۔ میکسیکو میں یہ دن موسیقی، روایتی گانوں اور تقریبات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

عالمی رجحانات

اعداد و شمار کے مطابق ماؤں کے عالمی دن پر پھولوں اور تحائف کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ سرخ اور گلابی کارنیشن زندہ ماؤں کی محبت کی علامت ہیں جبکہ سفید کارنیشن ان ماؤں کی یاد میں رکھے جاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔

اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس دن دنیا بھر میں سب سے زیادہ فون کالز اپنی ماؤں کو کی جاتی ہیں، جو اس رشتے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

اہم پیغام

اگرچہ مشرقی اور اسلامی معاشروں میں ماں کا احترام کسی ایک دن کا محتاج نہیں، لیکن یہ دن نئی نسل کو اس عظیم رشتے کی اہمیت یاد دلانے کا ایک خوبصورت موقع فراہم کرتا ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بھی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دن ان تمام ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو خاموشی سے اپنی زندگی اولاد اور خاندان کی خوشی کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔

اس موقع پر ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ وقت گزارے، ان کی خدمت کرے یا ان کی پسند کا کوئی کام کر کے ان کے لیے اپنی محبت کا اظہار کرے، کیونکہ ماں واقعی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

Leave a reply