
ہالی وڈ میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ”بیک رومز“ نے سینما گھروں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ فلم روایتی ڈراؤنی کہانیوں سے ہٹ کر ایک ایسے ماحول کو پیش کرتی ہے جہاں خوف کسی مافوق الفطرت مخلوق سے نہیں بلکہ خالی، بے ترتیب اور غیر مانوس جگہوں سے جنم لیتا ہے۔
فلم کی کہانی ایک شخص کلارک کے گرد گھومتی ہے، جو ماضی میں ایک ماہر تعمیرات رہ چکا ہے اور اب ایک فرنیچر اسٹور چلاتا ہے۔ اس کی زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب اسے اپنے شو روم کے تہہ خانے میں ایک ایسا راستہ ملتا ہے جو ایک نہ ختم ہونے والی اور پراسرار کمروں کی دنیا میں لے جاتا ہے۔
جب وہ اپنی ماہر نفسیات ڈاکٹر میری کلائن کو اس عجیب تجربے کے بارے میں بتاتا ہے تو اس کا مختصر سا جملہ “مجھے ایک جگہ ملی ہے” پورے بیانیے میں خوف اور تجسس کی علامت بن جاتا ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ماحول دفاتر، بند شاپنگ مالز اور یکساں طرز کی عمارتوں پر مشتمل ہے، جو ناظرین کو ایک غیر واضح اور بے چین کر دینے والی دنیا میں لے جاتا ہے۔ زرد روشنیاں، لمبی راہداریاں، جھوٹی چھتیں اور خالی کمرے مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتے ہیں کہ جیسے ہر دروازے کے پیچھے کوئی غیر متوقع حقیقت چھپی ہو۔
ہدایتکار کین پارسنز کے مطابق فلم کا تصور جدید دور کی صنعتی اور یکساں عمارتوں سے پیدا ہونے والی ذہنی بے چینی سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کی دنیا میں عمارتیں ایک جیسی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں، جس سے انسان کے اندر اجنبیت اور الجھن کا احساس بڑھتا ہے۔
فلم میں مرکزی کردار اور اس کی ساتھی ان پراسرار کمروں کے اندر گہرائی تک جاتے ہیں، مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ جگہیں کس نے بنائیں یا ان کے پیچھے کون سا نظام کام کر رہا ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال فلم کا بنیادی خوف بن جاتی ہے۔
ماہرین فن تعمیر اور فلسفہ بھی ایسی جگہوں کو ایسے ماحول سے تعبیر کرتے ہیں جہاں نہ کوئی شناخت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی واضح تعلق۔ یہ وہ مقامات ہوتے ہیں جو انسانی موجودگی سے خالی ہونے کے باوجود ایک عجیب سی بے چینی پیدا کرتے ہیں۔
”بیک رومز“ کو اس کی منفرد کہانی اور ماحول کی وجہ سے ایک غیر روایتی ہارر تجربہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ناظرین کو آخر تک الجھن اور تجسس کی کیفیت میں رکھتا ہے۔








