
ہالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان اپنی نئی فلم “دی اوڈیسی” کے ذریعے دنیا کی قدیم ترین ادبی کہانیوں میں سے ایک کو جدید سینما کی زبان میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔ یہ فلم یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ تخلیق “اوڈیسی” سے متاثر ہے، جسے عالمی ادب کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
فلم میں اداکار میٹ ڈیمن افسانوی یونانی بادشاہ اوڈیسیئس کا کردار نبھا رہے ہیں۔ کہانی ٹرائے کی جنگ کے بعد شروع ہوتی ہے، جب اوڈیسیئس اپنے وطن ایتھاکا واپسی کے لیے ایک طویل، خطرناک اور آزمائشوں سے بھرپور سفر اختیار کرتا ہے۔
قدیم روایت کے مطابق اوڈیسیئس جنگ میں دس برس گزارنے کے بعد مزید دس سال مختلف سمندری راستوں، جزیروں اور غیر معمولی خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ اس دوران اس کی اہلیہ پینیلوپ اور بیٹا ٹیلی میکس اس کی واپسی کی امید برقرار رکھتے ہیں۔
داستان میں یونانی دیومالا بھی نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ عقل و حکمت کی دیوی ایتھینا اوڈیسیئس کی مددگار بنتی ہیں، جبکہ سمندر کے دیوتا پوسیڈن اس کے سفر میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ سائیکلوپس پولی فیمس کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بتایا جاتا ہے۔
اوڈیسیئس اپنے سفر کے دوران کئی غیر معمولی تجربات سے گزرتا ہے، جن میں لوٹس کھانے والوں کا جزیرہ، ایک آنکھ والے دیو سائیکلوپس کا سامنا، سائرن کی مسحور کن آوازیں، جادوگرنی سرسے، خوفناک سمندری مخلوقات سکیلا اور چیریبدس، اور زیرِ زمین دنیا کا سفر شامل ہیں۔
اس داستان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مرکزی کردار صرف جسمانی طاقت پر انحصار نہیں کرتا بلکہ دانشمندی، منصوبہ بندی اور حاضر دماغی کے ذریعے مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ یہی پہلو اسے روایتی جنگجو ہیروز سے مختلف بناتا ہے۔
دوسری جانب پینیلوپ وفاداری اور صبر کی علامت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں شادی کے خواہش مند افراد کو مختلف تدبیروں سے ٹالتی رہتی ہیں، جبکہ ٹیلی میکس اپنے والد کی تلاش اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کہانی کے اختتام پر اوڈیسیئس برسوں بعد اپنے وطن واپس پہنچتا ہے، ابتدا میں اپنی شناخت چھپا کر حالات کا جائزہ لیتا ہے اور بعد ازاں اپنی مہارت اور بہادری کے ذریعے اپنی بادشاہت دوبارہ حاصل کر لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق “اوڈیسی” کی مقبولیت کی بنیادی وجہ اس کے وہ موضوعات ہیں جو آج بھی انسانوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں، جیسے گھر واپسی کی خواہش، امید، استقامت، خاندان سے محبت اور مشکل حالات میں اپنی شناخت برقرار رکھنا۔
کرسٹوفر نولان کی نئی فلم اسی کلاسیکی داستان کو جدید فلمی تکنیک اور نئے اندازِ بیان کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش ہے، جس کے ذریعے ایک بار پھر اس قدیم شاہکار کو نئی نسل کے ناظرین تک پہنچایا جائے گا۔









