پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری؟ اہم تجویز سامنے آگئی

0
25
پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری؟ اہم تجویز سامنے آگئی

لاہور: پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک قرارداد جمع کرا دی گئی ہے، جس کا مقصد بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
قرارداد پنجاب اسمبلی کی رکن اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قانونی پابندی عائد کی جائے اور عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔
فی الحال پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کم از کم عمر مقرر کرتا ہو۔ ماہرین کے مطابق چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کی نگرانی وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے، اس لیے پورے ملک میں ایسی پابندی نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی ضروری ہوگی۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد محض ایک سفارش ہے اور خود بخود قانون کا درجہ نہیں رکھتی۔
دنیا کے مختلف ممالک بھی بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق قوانین سخت کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا، انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکیہ، یونان، چین اور متحدہ عرب امارات مختلف نوعیت کے عمر کی تصدیق اور حفاظتی ضوابط نافذ کر چکے ہیں، جبکہ برطانیہ نے بھی کم عمر صارفین کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان میں اس سے قبل جون 2025 میں سینیٹ میں اسی نوعیت کا ایک بل پیش کیا گیا تھا، تاہم اعتراضات کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔ بعد ازاں 2026 میں یہ معاملہ دوبارہ ایوان میں زیرِ بحث آیا، جہاں ارکان نے بچوں کے تحفظ اور تعلیمی ضروریات دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، اضطراب، نیند کی خرابی اور سائبر بُلنگ جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ دوسری جانب، یونیسف کا مؤقف ہے کہ صرف پابندی کافی نہیں بلکہ بچوں کے لیے محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل بھی ضروری ہے۔

Leave a reply