گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ عمر نہیں، روزانہ کی یہ عادتیں بھی ہوسکتی ہیں

0
26
گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ عمر نہیں، روزانہ کی یہ عادتیں بھی ہوسکتی ہیں

صحت: روزمرہ معمولات میں معمولی سی بے احتیاطی وقت کے ساتھ گھٹنوں کی حرکت، پٹھوں کی طاقت اور جوڑوں کی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مناسب جسمانی سرگرمی، درست ورزش اور متوازن وزن گھٹنوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گھٹنوں پر جسم کا وزن برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ چلنے، بیٹھنے، کھڑے ہونے اور سیڑھیاں چڑھنے جیسی بیشتر حرکات کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ گھٹنوں کے مسائل کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم بعض روزمرہ عادات ان پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
1۔ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہنا
طویل عرصے تک بیٹھنے سے رانوں اور کولہوں کے پٹھوں کی طاقت متاثر ہوسکتی ہے، جس سے گھٹنوں کو ملنے والا سہارا کم ہوجاتا ہے۔ بہتر ہے کہ مسلسل بیٹھنے کے بجائے وقفے وقفے سے اٹھ کر چند منٹ چلا جائے یا ٹانگوں کو حرکت دی جائے۔
2۔ ضرورت سے زیادہ سیڑھیاں چڑھنا
سیڑھیاں چڑھنا ایک مفید جسمانی سرگرمی ہے، تاہم کمزور پٹھوں یا پہلے سے موجود گھٹنے کے درد کی صورت میں بار بار زیادہ سیڑھیاں چڑھنے سے تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ سرگرمی کی شدت بتدریج بڑھانا زیادہ مناسب ہے۔
3۔ ورزش سے قبل جسم کو تیار نہ کرنا
بغیر وارم اپ کے اچانک دوڑ، چھلانگ یا سخت ورزش شروع کرنے سے پٹھوں اور جوڑوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ورزش سے پہلے ہلکی پھلکی حرکات اور مناسب وارم اپ جسم کو ورزش کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
4۔ ورزش کے دوران درد کو نظر انداز کرنا
ورزش کے بعد معمولی تھکن اور مسلسل یا شدید درد میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اگر گھٹنے میں بار بار یا تیز درد محسوس ہو تو ورزش کی شدت کم کرنا، سرگرمی تبدیل کرنا اور ضرورت پڑنے پر طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
5۔ نامناسب جوتوں کا استعمال
غلط سائز یا کم سہارا دینے والے جوتے چلنے کے انداز کو متاثر کرسکتے ہیں، جس کا اثر ٹانگوں اور گھٹنوں کی حرکت پر پڑ سکتا ہے۔ روزانہ زیادہ چلنے یا ورزش کے لیے آرام دہ اور سرگرمی کے مطابق جوتے استعمال کرنا بہتر ہے۔
6۔ جسمانی سرگرمی سے مکمل دوری
جسم کو بالکل متحرک نہ رکھنا بھی گھٹنوں کے لیے مفید نہیں۔ پیدل چلنے، سائیکل چلانے اور تیراکی جیسی نسبتاً کم اثر والی سرگرمیاں پٹھوں کو فعال رکھنے میں مددگار ہوسکتی ہیں۔ تاہم گھٹنے کا پہلے سے مسئلہ ہو تو ورزش کا انتخاب ماہر کے مشورے سے کرنا بہتر ہے۔
7۔ وزن میں غیر ضروری اضافہ
اضافی جسمانی وزن گھٹنوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور طویل مدت میں جوڑوں کے مسائل کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔ متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے ذریعے صحت مند وزن برقرار رکھنا جوڑوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔
8۔ اسکواٹس اور وزن اٹھانے کی غلط تکنیک
اسکواٹس، لانجز اور دیگر ویٹ ٹریننگ ایکسرسائزز غلط انداز میں کرنے سے گھٹنوں پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر زیادہ وزن کے ساتھ ورزش کرتے وقت درست تکنیک اور جسمانی پوزیشن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ان عادات میں سے کسی ایک کا ہونا لازماً گھٹنوں کو نقصان پہنچنے کی علامت نہیں، تاہم طویل عرصے تک جسمانی غیرفعالیت، غیر مناسب ورزش یا جوڑوں پر مسلسل اضافی دباؤ مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
روزمرہ معمولات میں مناسب حرکت، درست ورزش، آرام دہ جوتوں اور متوازن وزن کو شامل کرکے گھٹنوں کی صحت اور جسمانی حرکت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a reply