
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے تعلیمی اداروں کے لیے اپنی سروسز سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی سہولتوں اور عام سرچ انجن کے استعمال کے حوالے سے مشترکہ انتظامی پالیسی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔
امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق گوگل آئندہ سال سے اپنے تعلیمی پلیٹ فارم میں شامل مختلف اے آئی فیچرز کو طلبہ کے اکاؤنٹس پر ڈیفالٹ طور پر بند رکھے گا۔ تاہم اسکول انتظامیہ اپنی صوابدید کے مطابق ان سہولتوں کو فعال کر سکے گی۔
اس پالیسی کا اہم پہلو یہ ہے کہ گوگل نے اپنی سرچ سروس کو بھی اے آئی سے متعلق دیگر تعلیمی فیچرز کے ساتھ ایک ہی انتظامی نظام میں شامل کر دیا ہے۔ اس صورت میں جو تعلیمی ادارے اے آئی ٹولز کے استعمال کی اجازت نہیں دینا چاہتے، انہیں عام گوگل سرچ کی سہولت کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گوگل کے تعلیمی پلیٹ فارم میں جیمنائی، جیمنائی نوٹ بک اور کلاس روم سے متعلق اے آئی سہولتوں کے ساتھ سرچ انجن کو بھی مشترکہ کنٹرول کے تحت رکھا گیا ہے۔ گوگل کے شعبہ تعلیم کے نائب صدر کرس فلپس کے مطابق سرچ سروس میں اے آئی ٹیکنالوجی اس حد تک شامل ہو چکی ہے کہ دونوں نظاموں کو مکمل طور پر الگ کرنا ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب تعلیمی ماہرین نے اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر مورگن پولیکوف کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اسکولوں کے پاس اپنی تعلیمی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال کا انتخاب محدود ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی اسکولوں اور والدین کی جانب سے تعلیمی ماحول میں اے آئی فیچرز کو خودکار طور پر فعال کرنے پر اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ تعلیمی اداروں کے اختیار میں ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 15 کروڑ سے زائد طلبہ اور اساتذہ گوگل کی تعلیمی سروسز استعمال کر رہے ہیں۔ ان سہولتوں میں جی میل، گوگل ڈاکس، شیٹس، ڈرائیو اور گوگل کلاس روم شامل ہیں۔ امریکا میں اسکولوں کے زیر استعمال کمپیوٹرز میں کروم بکس کا حصہ بھی نمایاں ہے۔
نیویارک سٹی پبلک اسکولز اور لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ سمیت بڑے تعلیمی ادارے پہلے ہی طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کر چکے ہیں۔ خصوصاً لاس اینجلس کے تعلیمی حکام عام گوگل سرچ کو برقرار رکھتے ہوئے اے آئی اوورویوز کو بند رکھنے کے خواہش مند تھے، تاہم نئی پالیسی کے باعث اس طرح کی علیحدہ پابندی نافذ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ادھر گوگل نے تعلیمی میدان میں ایک نئی سہولت گائیڈڈ لرننگ بھی متعارف کرائی ہے۔ اس فیچر کا مقصد طلبہ کو سوالات کے براہ راست جوابات فراہم کرنے کے بجائے مرحلہ وار رہنمائی دینا ہے تاکہ وہ خود مسائل حل کرنے اور موضوعات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔
اس سہولت کے ذریعے فزکس کے فارمولوں، درسی موضوعات اور کتابوں کے تجزیے جیسے کاموں میں طلبہ کو رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ گوگل کے مطابق اس طریقہ تدریس سے خود سیکھنے اور تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
گوگل کی نئی پالیسی کے بعد تعلیمی اداروں کے لیے یہ فیصلہ اہم ہو گیا ہے کہ وہ طلبہ کو اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی دیں یا عام سرچ کی سہولت کو ترجیح دیتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات قبول کریں۔








