گورنر راج کےبعدخیبرپختونخوامیں اعلیٰ افسران کےبڑے پیمانے پرتبادلے

0
16
گورنر راج کےبعدخیبرپختونخوامیں اعلیٰ افسران کےبڑے پیمانے پرتبادلے

پشاور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کیبعد وفاقی حکومت نے صوبائی بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ متعدد سینئر افسران کو صوبے سے تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنیکی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ ایک سینئر افسر کی خدمات صوبائی حکومت کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

سرکاری نوٹیفکیشنز کے مطابق ان تبدیلیوں میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 21، 20، 19 اور 18 کے افسران شامل ہیں۔ ان تبادلوں کو صوبے میں انتظامی امور کی نئی ترتیب سے جوڑا جا رہا ہے۔

تبدیل کیے جانے والے افسران میں سابق چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ بھی شامل ہیں، جنہیں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت عہدے سے ہٹا کر اگلے احکامات تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دیگر افسران میں اکرام اللہ، عنبر علی خان، شاہد اللہ، سہیل خان، شاہ فہد، ریٹائرڈ کیپٹن میاں عادل اقبال، محمد عثمان، ریٹائرڈ کیپٹن سرمد سلیم اکرم، شفیع اللہ خان، ریٹائرڈ کیپٹن زبیر خان، وقار علی، ریٹائرڈ کیپٹن ثناء اللہ خان، محمد احتشام الحق اور محمد فہیم شامل ہیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے گریڈ 20 کے افسر محمد یحییٰ اخونزادہ کی خدمات خیبر پختونخوا حکومت کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ وہ اس سے قبل وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔

محمد یحییٰ اخونزادہ صوبے میں سیکریٹری صحت، سیکریٹری اطلاعات، سیکریٹری تعلیم اور کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان سمیت مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں بھی انتظامی ذمہ داریوں کا تجربہ حاصل ہے۔ ان کی نئی تعیناتی تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی۔

یہ تبدیلیاں صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فراہم کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران اور معاونینِ خصوصی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا تھا۔ حالیہ تبادلوں کو صوبے کی انتظامی مشینری میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

نوٹ: خبر میں درج انتظامی اور آئینی اقدامات کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشنز سے رجوع کیا جائے۔

Leave a reply