کنڑ حملہ: وزارتِ اطلاعات نے افغان میڈیا کے دعوے مسترد کر دیے

اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں مبینہ حملے سے متعلق سامنے آنے والے افغان میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 اپریل 2026 کو پاکستانی فوج نے کنڑ میں واقع سید جمال الدین افغان یونیورسٹی اور قریبی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں اور یہ اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کارروائیاں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حکام کے مطابق یونیورسٹی پر حملے کی خبر گمراہ کن ہے اور اس کا مقصد غلط تاثر قائم کرنا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں جن کا مقصد حالات کو مسخ کرنا ہوتا ہے۔
ادھر سیکیورٹی ذرائع نے بھی ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی افغان مقام پر اس نوعیت کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بعض غیر مصدقہ رپورٹس اور میڈیا دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ غیر تصدیق شدہ معلومات پر یقین کرنے سے گریز کریں اور مستند ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔








