
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کا کرنٹ لگنا ایک نہایت خطرناک حادثہ ہے جو چند لمحوں میں انسانی جان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں گھبراہٹ کے بجائے فوری اور درست اقدامات کرنا متاثرہ شخص کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کا کرنٹ انسانی جسم کے اہم نظاموں، خصوصاً دل، دماغ اور سانس کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ شدید جھٹکے کی وجہ سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے یا مکمل طور پر رک سکتی ہے، جبکہ سانس لینے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کو کرنٹ لگ جائے تو سب سے پہلے بجلی کی فراہمی بند کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مین سوئچ فوری طور پر آف کر دینا چاہیے تاکہ متاثرہ فرد مزید کرنٹ کی زد میں نہ رہے۔
اگر بجلی بند کرنا فوری طور پر ممکن نہ ہو تو کسی خشک لکڑی یا غیر موصل چیز کی مدد سے تار یا برقی ذریعہ متاثرہ شخص سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران گیلی اشیا استعمال کرنے یا ننگے پاؤں قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے مدد کرنے والا شخص بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
متاثرہ فرد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد اس کی سانس اور نبض کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر سانس یا دل کی دھڑکن بند ہو تو تربیت یافتہ افراد کو فوری طور پر سی پی آر شروع کرنا چاہیے اور ہنگامی طبی امداد طلب کرنی چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق کرنٹ لگنے کے بعد بظاہر طبیعت ٹھیک محسوس ہونے کی صورت میں بھی متاثرہ شخص کو ہسپتال لے جانا ضروری ہے، کیونکہ بعض اندرونی چوٹیں یا دل کی بے ترتیبی بعد میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اگر جسم پر جلنے کے نشانات موجود ہوں تو ابتدائی طور پر متاثرہ حصے کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے، تاہم مکمل طبی معائنہ کرانا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے متعلق حادثات میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور بروقت احتیاطی تدابیر اور طبی امداد سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔








