چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کے متن میں خفیہ واٹرمارک، اے آئی تحریروں کی شناخت ممکن ہوگی

0
11
چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کے متن میں خفیہ واٹرمارک، اے آئی تحریروں کی شناخت ممکن ہوگی

مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی تحریروں کی شناخت کے لیے اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کے متن میں خفیہ واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو TextGrain کا نام دیا گیا ہے۔ یہ واٹرمارک عام قاری کو دکھائی نہیں دے گا، تاہم مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے متن میں موجود ایسے پیٹرنز کی نشاندہی کی جاسکے گی جو اسے اے آئی سے تیار کردہ مواد کے طور پر شناخت کرنے میں مدد دیں گے۔

TextGrain بنیادی طور پر الفاظ کے انتخاب اور ان کے استعمال کے مخصوص انداز پر کام کرتا ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ عام طور پر متن کو کاپی اور پیسٹ کرنے کے بعد بھی یہ نشان برقرار رہ سکتا ہے۔

یورپی یونین میں ابتدائی استعمال

اس نظام کی آزمائش ابتدائی طور پر یورپی یونین میں کی جارہی ہے۔ کمپنی کے مطابق فی الحال اسے دنیا بھر میں لازمی طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یورپی یونین میں محدود سطح پر استعمال کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کی عملی کارکردگی اور صارفین کے ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس پیش رفت کا تعلق یورپی یونین کے AI Act میں موجود ان تقاضوں سے بھی ہے جن کے تحت مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کی مشینی شناخت کے لیے مناسب طریقہ کار فراہم کرنا ضروری ہے۔

ہر اے آئی تحریر کی سو فیصد شناخت ممکن نہیں

اوپن اے آئی کے مطابق یہ نظام حتمی یا سو فیصد درست شناخت کا ذریعہ نہیں ہے۔ خاص طور پر مختصر تحریروں میں واٹرمارک کی نشاندہی مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ الفاظ کے انتخاب کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔

کمپنی کی آزمائشوں میں تقریباً 200 ٹوکنز پر مشتمل بعض تحریروں میں شناخت کی شرح 80 فیصد کے قریب رہی، جبکہ 400 ٹوکنز کے متن میں یہ شرح تقریباً 95 فیصد تک پہنچ گئی۔

ریاضی جیسے موضوعات میں بھی واٹرمارک کی شناخت نسبتاً مشکل ہوسکتی ہے، کیونکہ ایسے مواد میں الفاظ کے انتخاب کی آزادی عام تحریروں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

معمولی ترمیم سے بھی واٹرمارک متاثر ہوسکتا ہے

اے آئی سے تیار شدہ متن میں انسانی ترمیم، مترادفات کا استعمال یا ترجمہ کرنے سے واٹرمارک کمزور پڑ سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے تجربات کے مطابق 400 ٹوکنز کے متن میں تقریباً 10 فیصد الفاظ تبدیل کرنے پر شناخت کی شرح تقریباً 92 فیصد سے کم ہوکر 66 فیصد رہ گئی، جبکہ 25 فیصد الفاظ میں تبدیلی کے بعد یہ شرح تقریباً 17 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس لیے کسی تحریر میں واٹرمارک نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لازماً انسان کی لکھی ہوئی ہے۔ ممکن ہے متن میں ترمیم کی گئی ہو، اسے دوسری زبان میں منتقل کیا گیا ہو یا کسی ایسے اے آئی نظام سے تیار کیا گیا ہو جو اس ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتا۔

واٹرمارک صارف کی معلومات ظاہر نہیں کرے گا

اوپن اے آئی کے مطابق TextGrain کا مقصد صرف متن کے اے آئی سے تیار ہونے کے امکان کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہ نظام صارف کی شناخت، اس کے پرامپٹ یا اے آئی کو دی جانے والی ہدایات ظاہر نہیں کرے گا۔

اسی طرح واٹرمارک یہ بھی ثابت نہیں کرتا کہ متن میں موجود معلومات درست ہیں یا غلط، اور نہ ہی اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تحریر میں انسان کی کتنی شمولیت رہی ہے۔

دیگر کمپنیاں بھی واٹرمارکنگ پر کام کررہی ہیں

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی مختلف طریقوں پر کام کررہی ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے SynthID کے ذریعے اے آئی مواد کی شناخت کے لیے واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے، جبکہ دیگر اے آئی پلیٹ فارمز بھی اسی نوعیت کے حل پر توجہ دے رہے ہیں۔

اوپن اے آئی کے مطابق TextGrain کا ایک اختیاری ورژن اس کے بعض API صارفین کے لیے بھی دستیاب کیا جارہا ہے۔ کمپنی مستقبل میں محققین اور متعلقہ اداروں کو ڈٹیکشن ٹول تک رسائی دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

اے آئی سے تیار ہونے والے تعلیمی مواد، مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر تحریروں میں اضافے کے باعث ایسے شناختی نظام کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ تاہم موجودہ ٹیکنالوجی کی حدود کو دیکھتے ہوئے کسی متن کے اے آئی سے تیار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف واٹرمارک کی موجودگی یا عدم موجودگی کی بنیاد پر کرنا قابلِ اعتماد نہیں ہوگا۔

Leave a reply