نئی شرائط کس کے کہنے پر آئیں؟ مذاکرات کی کہانی میں نیا موڑ

0
21
نئی شرائط کس کے کہنے پر آئیں؟ مذاکرات کی کہانی میں نیا موڑ

اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے آخری مرحلے میں نئی شرائط پیش کیے جانے کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے ہی روز دہشت گردی کے خلاف قومی مؤقف اور دیگر اہم معاملات پر بنیادی اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا۔
ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی مؤقف واضح کیا اور خیبرپختونخوا حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سمیت انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے پشاور میں اپنی قیادت اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مشاورت کے بعد مذاکرات میں شامل تمام نکات پر مکمل اتفاق کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس پیش رفت سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے ڈرافٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور پارٹی رہنماؤں کو درپیش مقدمات سمیت سیاسی معاملات بھی شامل تھے۔ ان کے بقول ڈرافٹ حتمی شکل اختیار کرنے کے قریب تھا اور حکومت اسے سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہی تھی۔
وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے علیحدہ مشاورت کی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے دوبارہ رابطہ کیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد نئی شرائط سامنے آئیں اور مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ قومی سلامتی اور نیشنل ایکشن پلان کے معاملات پر حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خیبرپختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مارچز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے سرگرمیوں کو محفوظ اور دیگر شہریوں کے لیے خوف کا باعث بننے والی صورتحال قابل قبول نہیں۔
انہوں نے سرحد پار سے دہشت گرد حملوں اور ڈرونز کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے تحفظ کے لیے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت نے آئندہ احتجاجی مارچز سے نمٹنے کے لیے سیاسی، آئینی اور دیگر تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔

Leave a reply