باپ بننے سے مردوں کے دماغ اور ہارمونز میں کونسی نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں؟

0
29
باپ بننے سے مردوں کے دماغ اور ہارمونز میں کونسی نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں؟

نئی سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ والد بننا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ایسا حیاتیاتی عمل بھی ہے جو مردوں کے دماغ اور ہارمونز میں اہم تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں زیادہ تر تحقیق اس بات پر مرکوز رہی کہ حمل اور زچگی خواتین کو کس طرح متاثر کرتے ہیں، تاہم اب شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ بچے کی آمد باپ کی جسمانی اور ذہنی ساخت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق مردوں میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی بعض ہارمونز کی سطح میں تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ امریکی ماہرین کی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ شریکِ حیات کے حمل کے دوران باپ بننے والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون اور ویزوپریسین ہارمون کی مقدار کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح نسبتاً کم ہوتی ہے، وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی دیکھ بھال اور گھر کے معاملات میں زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نومولود کے ساتھ وقت گزارنے، اسے گود میں لینے یا پیار کرنے سے آکسیٹوسن ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، جو والد اور بچے کے درمیان جذباتی تعلق کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

دماغی ساخت کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق میں پہلی مرتبہ والد بننے والے مردوں کے دماغی اسکینز کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ بچے کی پیدائش کے بعد دماغ کے ان حصوں میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو توجہ، بصری معلومات کے تجزیے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے سے وابستہ ہیں۔

محققین کے مطابق یہ تبدیلیاں والدین کو اپنے بچوں کی ضروریات بہتر انداز میں محسوس کرنے اور ان کا بروقت جواب دینے میں مدد دیتی ہیں۔ بعض مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ابتدائی مہینوں میں دماغ کے سرمئی مادے میں مخصوص نوعیت کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں، جو نئی ذمہ داریوں کے مطابق دماغ کی تنظیمِ نو کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کی صلاحیت صرف فطری جبلت کا نتیجہ نہیں بلکہ بچے کے ساتھ مسلسل تعلق، دیکھ بھال اور وقت گزارنے سے مزید مضبوط ہوتی ہے۔ بچے کو کھلانا، سلانا، اس کے ساتھ کھیلنا اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا والد کے دماغی نیٹ ورکس کو فعال اور مستحکم بناتا ہے۔

تحقیقی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ جن بچوں کی زندگی میں والد بھرپور اور مثبت کردار ادا کرتے ہیں، ان کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما اور جذباتی استحکام کے بہتر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق والد بننے کا تجربہ مردوں کے دماغ اور رویوں میں تدریجی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے، جو وقت کے ساتھ انہیں بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لیے زیادہ موزوں بناتی ہیں۔

Leave a reply