چینی سائنس دانوں کی شمسی توانائی سے چلنے والی نئی ٹیکنالوجی، کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے میں کامیاب

0
43
چینی سائنس دانوں کی شمسی توانائی سے چلنے والی نئی ٹیکنالوجی، کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے میں کامیاب

چین کے محققین نے شمسی توانائی پر مبنی ایک نئی ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جس کے ذریعے سمندر کے کھارے پانی کو بغیر بجلی استعمال کیے پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنس دانوں نے اس نظام کا عملی نمونہ تیار کیا، جس نے کھلے ماحول میں تقریباً ایک سال تک مسلسل کام کیا۔ اس دوران نظام نے کسی بجلی، ایندھن یا بیرونی توانائی کے بغیر صرف سورج کی روشنی سے اپنی کارکردگی برقرار رکھی۔

اس ٹیکنالوجی کی بنیاد ایک جدید فوٹو تھرمل مادے پر رکھی گئی ہے، جسے نینو ذرات کی تین جہتی ساخت سے تیار کیا گیا۔ یہ مادہ سورج کی روشنی کو مؤثر انداز میں حرارت میں تبدیل کرتا ہے، جس سے پانی کے بخارات بننے کا عمل تیز ہوتا ہے اور نمکیات الگ کیے جا سکتے ہیں۔

تحقیقی آزمائش کے دوران نئے مادے نے سورج کی روشنی جذب کرنے کی 90 فیصد سے زائد صلاحیت دکھائی، جبکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے درکار توانائی میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔

ابتدائی تجربات میں اس نظام سے حاصل ہونے والے میٹھے پانی کو زرعی آبپاشی کے لیے بھی استعمال کیا گیا، جہاں محدود زرعی رقبے پر کامیاب نتائج سامنے آئے۔ پورے تجربے کے دوران نظام صرف شمسی توانائی سے چلتا رہا۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو اس سے تیار ہونے والے پانی کی لاگت نمایاں حد تک کم ہو سکتی ہے، اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صورت میں اخراجات مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایسے علاقوں کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتی ہے جہاں صاف پانی کی کمی، وافر دھوپ اور توانائی کے محدود وسائل موجود ہوں۔ تاہم اس کے وسیع پیمانے پر تجارتی استعمال کے لیے مزید آزمائش اور عملی منصوبوں کی ضرورت ہوگی۔

Leave a reply