چینی روبوٹ کی حیران کن رفتار، 100 میٹر کی دوڑ میں انسانی ریکارڈ بھی پیچھے

0
28
چینی روبوٹ کی حیران کن رفتار، 100 میٹر کی دوڑ میں انسانی ریکارڈ بھی پیچھے

بیجنگ میں جاری ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوران چینی ساختہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ میں حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کے عالمی ریکارڈ سے بھی بہتر وقت حاصل کر لیا۔

بیجنگ ہیومنائڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کے تیار کردہ تیان گونگ الٹرا نے 100 میٹر کا فاصلہ صرف 9.39 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس کے مقابلے میں جمیکا کے یوسین بولٹ نے 2009 میں برلن ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران یہی فاصلہ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کیا تھا۔

دوڑ میں تیان گونگ الٹرا کا مقابلہ آنر کے تیار کردہ روبوٹ لائٹننگ سے ہوا، جس نے 9.47 سیکنڈ کا وقت حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیان گونگ الٹرا نے دوڑ کے آغاز میں نسبتاً سست رفتار دکھائی، تاہم اختتامی مرحلے میں اس نے رفتار بڑھاتے ہوئے کامیابی حاصل کر لی۔

دونوں روبوٹس کی رفتار اگرچہ غیر معمولی تھی، تاہم دوڑ ختم ہونے کے بعد انہیں اپنی رفتار پر قابو پانے میں دشواری پیش آئی۔ تیان گونگ الٹرا حفاظتی رکاوٹ سے ٹکرا کر گر گیا، جبکہ لائٹننگ کو حادثے کے بعد اسٹریچر کے ذریعے ٹریک سے ہٹایا گیا۔

تیان گونگ الٹرا کی کارکردگی میں ایک سال کے دوران نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ سال اسی روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ تقریباً 21.50 سیکنڈ میں مکمل کی تھی، جبکہ اس مرتبہ اس نے اپنا وقت نصف سے بھی کم کر دیا۔

روبوٹکس کے میدان میں لائٹننگ بھی پہلے اپنی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔ رواں سال بیجنگ میں ہونے والی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن میں اس نے 21.1 کلومیٹر کا فاصلہ 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔

ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں دوڑ کے علاوہ فٹ بال، رقص اور صنعتی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ رواں ایڈیشن میں دنیا کے مختلف حصوں سے سیکڑوں ٹیمیں اور ہزاروں روبوٹس شریک ہیں۔

چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیاری اور ان میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے روبوٹس تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہیں جو مستقبل میں فیکٹریوں، ترسیل، صنعتی کاموں اور گھریلو سرگرمیوں میں انسانوں کی معاونت کر سکیں۔

روبوٹ کی جانب سے بولٹ کے انسانی ریکارڈ سے بہتر وقت حاصل کرنا اگرچہ تکنیکی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے، لیکن روبوٹ اور انسانی ایتھلیٹس کی کارکردگی کا براہِ راست موازنہ کرتے وقت ان کے ڈیزائن، وزن، توانائی کے ذرائع اور مقابلے کے قواعد جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Leave a reply