چاند تک سفر کے لیے نیا کم خرچ خلائی راستہ دریافت

0
0
چاند تک سفر کے لیے نیا کم خرچ خلائی راستہ دریافت

سائنس دانوں نے زمین اور چاند کے درمیان سفر کے لیے ایک نیا اور زیادہ مؤثر خلائی راستہ تجویز کیا ہے جس سے مستقبل میں مشنز کے اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
خلائی تحقیق سے متعلق ویب سائٹس کے مطابق سائنس دان طویل عرصے سے ایسے راستوں کی تلاش میں ہیں جن میں کم سے کم ایندھن استعمال ہو، کیونکہ ایندھن کی بچت سے خلائی مشنز کے مجموعی اخراجات میں اربوں روپے کی کمی آ سکتی ہے۔
ایک بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم نے جدید کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ مداروں کا تجزیہ کیا۔ اس دوران تقریباً تین کروڑ مختلف راستوں کی سمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے منتخب نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز صرف مسلسل ایندھن پر انحصار نہیں کرتے بلکہ زمین اور چاند کی کششِ ثقل کو استعمال کر کے کم توانائی میں سفر مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا گیا ہے جو پہلے زیرِ غور نہیں آیا تھا۔
ماہرین کے مطابق روایتی طور پر زمین کے قریب سے گزرنے والے راستے زیادہ مؤثر سمجھے جاتے تھے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مختلف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ کم خرچ اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اس نئے طریقے سے خلائی جہازوں کے ایندھن کی کھپت میں واضح کمی آنے کی توقع ہے، جس سے مستقبل کے مشنز زیادہ سستے اور عملی ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ نیا راستہ بعض مشنز میں زمین سے رابطے کے مسائل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر جب خلائی جہاز چاند کے پیچھے سے گزرتے ہیں۔
تحقیق کرنے والی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی نتیجہ ہے اور اسے حتمی حل نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ تحقیق میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی شامل کر کے مزید بہتر اور کم خرچ راستوں کی تلاش جاری رہے گی۔

Leave a reply