
چارسدہ: پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی لانگ مارچ ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ چارسدہ سے روانہ ہوچکا ہے، جو مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا آج مردان پہنچے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے شرکا نے گزشتہ شب چارسدہ کے رزڑ گراؤنڈ میں قیام کیا تھا۔ آج صبح قافلے نے اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کیا۔ مارچ تنگی، سرڈھیری اور دیگر علاقوں سے ہوتا ہوا مردان کی حدود میں داخل ہوگا۔
منتظمین کے طے کردہ پروگرام کے مطابق شرکا رات مردان میں گزاریں گے، جس کے بعد 11 اکتوبر کو صوابی کی جانب روانگی ہوگی۔ اس سے قبل قافلہ لکی مروت، کرک، کوہاٹ، پشاور، خیبر اور چارسدہ میں مختلف مقامات پر قیام کرچکا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کارکنوں کے نام پیغام
بخشی پل پر شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور کے عوام اور پارٹی کارکنوں کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل سفر کے باوجود شرکا کے حوصلے بلند ہیں اور احتجاج میں ان کی دلچسپی برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چارسدہ میں مارچ کے آئندہ مرحلے سے متعلق حکمت عملی پر بات کی جائے گی، جبکہ صوابی پہنچنے پر احتجاج کے حتمی لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ مراحل کے لیے تیار رہیں اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔
لانگ مارچ کے مطالبات کیا ہیں؟
مارچ کے منتظمین کے مطابق احتجاج کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت حاصل کرنا، انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت اعلیٰ عدالتوں میں شروع کرانے کے مطالبات پر زور دینا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ دوسری جانب متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ مارچ کے دوران امن و امان اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے۔









