نئی دہلی میں احتجاج روکنےکے لیے سخت اقدامات، متعدد رہنماؤں کی گرفتاری

0
2
نئی دہلی میں احتجاج روکنےکے لیے سخت اقدامات، متعدد رہنماؤں کی گرفتاری

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جانے اور متعدد سیاسی رہنماؤں سمیت مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فارم سکس میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ تاہم، دہلی پولیس نے امن و امان سے متعلق خدشات اور اجازت کے لیے مقررہ طریقہ کار پورا نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ایئر انڈیا کی پرواز کے اندر سے حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر جانے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کو بھی پولیس نے تحویل میں لیا۔

شہر بھر میں سیکیورٹی سخت

مجوزہ احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی کے اہم مقامات اور مرکزی راستوں پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر رکاوٹیں اور خاردار تاریں نصب کیے جانے کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری بھی تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس، بارڈر سیکیورٹی فورس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکاروں کو ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے بھارتی ناگرک سرکشا سنہیتا کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

گرفتاریوں پر سیاسی ردعمل

کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے رہنماؤں کو طیارے کے اندر سے حراست میں لیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے اس اقدام کو جابرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، اس نوعیت کی کارروائی شہری آزادیوں اور نقل و حرکت کے حق سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔

دوسری جانب، پولیس کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی ممکنہ ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے سیکڑوں افراد کو پہلے ہی تحویل میں لیا جا چکا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات

احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، متعدد میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ بعض مرکزی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

اسی طرح نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے متعلق ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، منسوخ ہونے والی ٹرینوں کی تعداد اور سروسز کی بحالی کے بارے میں آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

تجارتی علاقے کنوٹ پلیس میں بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اجازت کے بغیر عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نوٹ: خبر میں شامل گرفتاریوں، ٹرانسپورٹ کی بندش اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اشاعت سے قبل ضروری ہے۔

Leave a reply