
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن کا اطلاق 2026 سے کیا جائے گا۔ نئے نظام کا مقصد کھلاڑیوں کی کارکردگی، دستیابی اور میرٹ کو زیادہ مؤثر انداز میں مدنظر رکھنا ہے۔
لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید اور قومی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے نئے فریم ورک کی تفصیلات بیان کیں۔
پی سی بی کے مطابق موجودہ اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل سینٹرل کنٹریکٹ ماڈل ختم کر دیا جائے گا۔ اس کی جگہ ایسا نظام متعارف ہوگا جس میں کھلاڑیوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی، مختلف فارمیٹس میں کردار اور ٹیم کے لیے دستیابی کی بنیاد پر کی جائے گی۔
چیئرمین محسن نقوی نے بتایا کہ نئے کنٹریکٹ ڈھانچے میں 85 فیصد وزن کارکردگی کو دیا جائے گا، تاکہ بہترین کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع اور مراعات حاصل ہوں۔
پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ریڈ بال کرکٹ کھیلنے والے اور ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ ترقیاتی راستہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ طویل فارمیٹ میں مہارت رکھنے والے کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
نئے نظام کے تحت ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت سینٹرل کنٹریکٹ کے حصول کے لیے لازمی شرط ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد قومی اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنا اور مقامی سطح پر کھیل کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
پی سی بی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے الگ درجہ بندی کا طریقہ کار بھی تیار کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی جائزہ لینے کے اہم عوامل میں شامل کیا جائے گا۔
بورڈ کے مطابق 2026 کے سینٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت جاری کیے جائیں گے، اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ نظام قومی کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔









