پیٹرول کی قیمت میں ٹیکس اور مارجنز کا بڑا حصہ، اصل لاگت سے 136 روپے سے زائد فرق

0
13
پیٹرول کی قیمت میں ٹیکس اور مارجنز کا بڑا حصہ، اصل لاگت سے 136 روپے سے زائد فرق

اسلام آباد: ملک میں پیٹرول کی بنیادی لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان نمایاں فرق برقرار ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز شامل ہونے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت اس کی اصل لاگت سے 136 روپے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی بنیادی لاگت تقریباً 254 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ صارفین کے لیے اس کی مقررہ قیمت 391 روپے 30 پیسے فی لیٹر ہے۔ یوں دونوں قیمتوں میں تقریباً 136 روپے 34 پیسے کا فرق بنتا ہے۔

پیٹرول پر مختلف مدات میں 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 23 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ پیٹرول کی قیمت میں ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن 7 روپے 91 پیسے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز مارجن 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر شامل ہے۔ ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی 1 روپے 90 پیسے شامل کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 285 روپے 85 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے، جبکہ صارفین کے لیے اس کی موجودہ قیمت 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔

اس طرح ڈیزل کی بنیادی لاگت اور مقررہ فروخت قیمت کے درمیان فرق 122 روپے 68 پیسے فی لیٹر بنتا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت میں بنیادی لاگت کے ساتھ مختلف سرکاری محصولات اور سپلائی چین سے متعلق مارجنز بھی نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔

Leave a reply