
حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتیں نافذ ہونے جا رہی ہیں۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی کی شرح عام شہری کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ پہلے یہ 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر تھی۔
نئی قیمتوں کا اطلاق کب ہوگا؟
اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے لیوی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ پیٹرول پر لیوی بڑھا کر 112 روپے 14 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل پر 37 روپے 33 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ہائی آکٹین پر بھی لیوی میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
معیشت اور عوام پر اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ چونکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق یومِ مئی کی سرکاری چھٹی کے باعث قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان ایک روز قبل کیا گیا۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ عام صارفین کے لیے مزید معاشی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
نتیجہ
بار بار ہونے والے ایندھن کے نرخوں میں اضافے نے شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی مزید مہنگی کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی منڈی اور اندرونی ٹیکس نظام میں توازن نہیں آتا، اس طرح کے اضافے معیشت پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔









