پینٹاگون کا بڑا اقدام، امریکی فوجی اخبار کی قیادت نشانے پر

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے امریکی فوجیوں کے معروف اخبار اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے بعد ادارے کی صحافتی آزادی اور مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اخبار کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون کو ایک ٹی وی انٹرویو میں دیے گئے بیان پر عہدے سے ہٹانے کا نوٹس دیا گیا۔ سلاون کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں تک پہنچنے والی خبروں پر مصنوعی یا غیر ضروری سنسرشپ قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
اخبار کے یورپ اور مشرق وسطیٰ بیورو کے سربراہ ولیم گیلو نے عملے کو بتایا کہ ایڈیٹر ان چیف کے علاوہ پبلشر میکس لیڈر اور رپورٹر لارا کورٹ کو بھی برطرفی کے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کوریج کرنے والی لارا کورٹ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی برطرفی کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق انہیں ایک ایسے بیان کے بعد کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ پینٹاگون کے بجائے اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے لیے کام کرتی ہیں۔
اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کئی دہائیوں سے امریکی فوجیوں کے لیے ملکی اور عالمی خبروں کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ اگرچہ اسے امریکی محکمہ دفاع سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے، تاہم ادارتی معاملات میں اسے روایتی طور پر خاصی آزادی حاصل رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں پینٹاگون نے اخبار کے انتظامی اور ادارتی معاملات میں اپنے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اخبار کے نظام کو بہتر بنانا چاہتا ہے، جبکہ صحافتی آزادی کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ حکومتی اثر و رسوخ میں اضافے سے ادارتی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ سرکاری معاونت حاصل کرنے والے فوجی اخبار کی صحافتی آزادی کس حد تک برقرار رہ سکے گی۔ آنے والے دنوں میں پینٹاگون اور اخبار کے درمیان تعلقات کی سمت اس معاملے کی مزید تصویر واضح کرے گی۔









