پنجاب میں خفیہ کیمروں والی عینکوں، پین اور گھڑیوں پر پابندی کا فیصلہ

0
24
پنجاب میں خفیہ کیمروں والی عینکوں، پین اور گھڑیوں پر پابندی کا فیصلہ

لاہور: حکومتِ پنجاب نے شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ اور خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے ہراسانی و بلیک میلنگ کی روک تھام کے لیے جاسوسی میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق ایسے آلات کا غیر قانونی استعمال شہریوں کی نجی زندگی، ذاتی معلومات اور بنیادی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، خصوصاً خواتین اور بچوں کو خفیہ نگرانی اور بلیک میلنگ جیسے مسائل سے بچانے کے لیے ان کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے۔

اس فیصلے کے تحت ایسی عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر اشیا پر توجہ دی جا رہی ہے جن میں خفیہ کیمرے یا آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہو۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ان آلات کے استعمال کے ساتھ ان کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بعض افراد جدید الیکٹرانک آلات کے ذریعے متعلقہ افراد کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنانے، گفتگو ریکارڈ کرنے اور نجی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف رازداری کے حق کو متاثر کرتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد کو ہراسانی اور بلیک میلنگ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسمارٹ عینکوں کا معاملہ بھی عدالت میں زیرِ بحث

خفیہ کیمروں سے لیس اسمارٹ عینکوں کے استعمال اور فروخت سے متعلق خدشات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں رے بین میٹا اسمارٹ گلاسز کی فروخت اور ان سے وابستہ رازداری و سیکیورٹی کے معاملات پر دائر درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کو طلب کیا گیا تھا۔

اس کیس میں وفاقی وزارتِ تجارت، وزارتِ داخلہ، ایف بی آر اور کسٹمز حکام سے بھی جواب طلب کیے جانے کا ذکر ہے۔

پابندی کے نفاذ سے متعلق تفصیلات تاحال غیر واضح

اس معاملے میں پابندی کے باقاعدہ نفاذ کی تاریخ، متعلقہ قانونی نوٹیفکیشن، استثنیٰ کی شرائط اور خلاف ورزی کی صورت میں مقررہ سزاؤں کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں واضح نہیں ہیں۔

قانونی صورتِ حال کی مکمل وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن اور متعلقہ قوانین کی تفصیلات سامنے آئیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ پابندی کن آلات اور کن حالات میں لاگو ہوگی۔

شہریوں کی نجی زندگی کا تحفظ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، تاہم اس نوعیت کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے واضح قانونی ضابطے اور مؤثر نگرانی بھی ضروری ہیں۔

Leave a reply