پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ، 1.21 ارب ڈالر کی منظوری متوقع

0
0
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ، 1.21 ارب ڈالر کی منظوری متوقع

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹینبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مذاکرات کے دوران 2026 کے لیے آرٹیکل فور مشاورتی عمل بھی مکمل کر لیا گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق حتمی منظوری ایگزیکٹو بورڈ دے گا، جس کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر موصول ہوں گے۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی نئی رقم پاکستان کو دستیاب ہو سکے گی۔

آئی ایم ایف مشن کے مطابق نئی رقم کے اجرا کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی مالی معاونت تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

معاشی استحکام برقرار رکھنے کا دعویٰ

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے حالیہ علاقائی کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کا پالیسی اقدامات کے ذریعے مقابلہ کیا اور مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھا۔

فنڈ کے مطابق مالی سال 2026 کی ابتدائی تین سہ ماہیوں میں حقیقی معاشی نمو تقریباً 4 فیصد رہی، تاہم توانائی کی بلند قیمتوں اور سپلائی چین سے متعلق مشکلات کے باعث پورے سال کی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے بھی بہتری کا ذکر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مئی میں بلند سطح پر پہنچنے کے بعد ستمبر میں مہنگائی کم ہو کر 10.3 فیصد رہی، جبکہ بنیادی مہنگائی بھی نسبتاً قابو میں رہی۔

ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافے کے باعث بیرونی کھاتے کو سہارا ملا اور ستمبر کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

پیٹرول پر عمومی رعایت ختم کرنے کی ہدایت

معاہدے کے تحت حکومت کو ایندھن پر دی جانے والی عمومی سبسڈی ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے بجائے کم آمدن والے طبقات کے لیے ہدفی سماجی امدادی پروگراموں، خصوصاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، کے دائرہ کار میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے مالی سال 2027 کے بجٹ پر سخت مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ عملدرآمد اور جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس برقرار رکھنے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات

آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ سرکاری آمدن میں بہتری اور عوامی قرضوں میں پائیدار کمی لائی جا سکے۔

توانائی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اخراجات کم کرنے کے اقدامات کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فنڈ کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے میں دوبارہ اضافے کو روکنا ہے۔

صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے کا ہدف

حکومت نے صحت اور تعلیم کے لیے مختص اخراجات میں اضافے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ موجودہ اخراجات کو جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھا کر 2.5 فیصد کیا گیا ہے جبکہ آئندہ سال یہ شرح 2.8 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے لیے بھی ہدایات

آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط اور سخت زری پالیسی برقرار رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ میں لچک برقرار رکھنے کو بھی بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

آرٹیکل فور مشاورت کے دوران نجی شعبے کے فروغ، سرکاری اداروں میں انتظامی بہتری اور انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو مزید مؤثر بنانے جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔

آر ایس ایف کے تحت ماحول دوست منصوبوں اور پانی کے وسائل کے بہتر معاشی استعمال اور قیمتوں کے تعین سے متعلق اصلاحات پر بھی کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات کا اختتامی مرحلہ اسلام آباد میں ہوا، جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور آئی ایم ایف کے نمائندے سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

اسٹاف لیول معاہدے کے باوجود فنڈز کا اجرا فوری طور پر نہیں ہوگا بلکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد نئی قسط جاری کیے جانے کی راہ ہموار ہوگی۔

Leave a reply