پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی مبینہ مداخلت، اسلام آباد کا شدید احتجاج

0
9
پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی مبینہ مداخلت، اسلام آباد کا شدید احتجاج

اسلام آباد: پاکستان نے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز کی مبینہ مداخلت پر بھارت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کی صورت میں تحمل کے موجودہ مظاہرے کو یقینی نہ سمجھنے کا عندیہ دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 15 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے پر بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارتی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کی پاسداری یقینی بنائیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بحریہ کا جہاز آئی این ایس کولکتہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں جاری پاک بحریہ کی سی اسپارک 26 مشقوں کے علاقے کے قریب سرگرم رہا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 7 ستمبر سے بھارتی جنگی جہاز اور اس کے ساتھ موجود ہیلی کاپٹر نے مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی متعدد کوششیں کیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی جہاز نے پاک بحریہ کے جہازوں کے قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی۔ دفتر خارجہ نے ان سرگرمیوں کو معمول کی بحری تعیناتی کے بجائے 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق 15 ستمبر کو آئی این ایس کولکتہ نے اچانک رخ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں اس کا پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین سے تصادم ہوا۔ پاکستانی جہاز کے جانب سے بچاؤ کی کوشش کے باوجود دونوں بحری جہازوں میں رگڑ ہوئی، جس کے بعد بھارتی جہاز نے رفتار بڑھا کر علاقے سے نکلنے کی کوشش کی۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا، تاہم پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ طرز عمل کے باعث صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔

پاکستان نے بھارت پر حقائق کو مسخ کرنے اور معاملے کو سفارتی سطح پر مختلف انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی مبینہ اشتعال انگیزی کے مقابلے میں موجودہ سطح کے ضبط و تحمل کو لازمی طور پر برقرار رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

Leave a reply