پاکستان، بھارت بحری کشیدگی: 1991ء کے معاہدے کا آرٹیکل 10 کیا کہتا ہے؟

0
0
پاکستان، بھارت بحری کشیدگی: 1991ء کے معاہدے کا آرٹیکل 10 کیا کہتا ہے؟

اسلام آباد: شمالی بحیرۂ عرب میں پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کے درمیان مبینہ تصادم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ واقعے سے متعلق پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ نے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہو کر پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں غیر ذمہ دارانہ انداز اختیار کیا اور مبینہ طور پر پی این ایس حنین سے ٹکرایا۔

پاکستان نے اس واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی جہاز نے متعدد انتباہات کے باوجود خطرناک انداز میں اپنی سمت تبدیل کی۔

دوسری جانب بھارت نے واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستانی بحری جہاز نے بھارتی جہاز کا راستہ روکا اور مبینہ طور پر ریڈیو رابطے کا جواب بھی نہیں دیا۔ بھارتی حکام نے بھی اس واقعے کو دونوں ممالک کے درمیان موجود 1991ء کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

1991ء کے معاہدے کا آرٹیکل 10 کیا ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان اپریل 1991ء میں فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فضائی و بحری سرگرمیوں سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اسی معاہدے کا آرٹیکل 10 دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان سمندر میں مخصوص فاصلہ برقرار رکھنے سے متعلق ہے۔

اس شق کے تحت دونوں ممالک کے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں کو کھلے سمندر میں ایک دوسرے سے کم از کم تین ناٹیکل میل کے فاصلے پر رہنے کی پابندی عائد کی گئی ہے، جو تقریباً 5.6 کلومیٹر بنتا ہے۔

اس شق کا بنیادی مقصد سمندر میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے درمیان غیر ارادی تصادم، غلط فہمی یا خطرناک صورت حال کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ سمندر میں زمینی سرحدوں کی طرح واضح نشانات موجود نہیں ہوتے، اس لیے مقررہ فاصلہ بحری جہازوں کو ایک دوسرے کی موجودگی کا اندازہ لگانے اور ضروری رابطہ کرنے کے لیے اضافی وقت فراہم کرتا ہے۔

دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلاف

پاکستانی دفتر خارجہ نے واقعے کو 1991ء کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی بحری جہاز کا طرز عمل اشتعال انگیز تھا اور اس سے ایک سنگین بحران پیدا ہوسکتا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکا۔

بھارتی حکام کی جانب سے اس کے برعکس دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی بحری جہاز معمول کی نگرانی کی کارروائی پر تھا، جبکہ پاکستانی جہاز نے اس کا تعاقب کیا اور ریڈیو چینل 16 پر کی جانے والی کالز کا جواب نہیں دیا۔

ماضی میں بھی آرٹیکل 10 کا حوالہ دیا جا چکا ہے

پاکستان اور بھارت کے درمیان بحری سرگرمیوں کے دوران اس معاہدے کا حوالہ ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔

جون 2011ء میں خلیج عدن میں بھارتی بحری جہاز آئی این ایس گوداوری اور پاکستانی جہاز پی این ایس بابر کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد بھی آرٹیکل 10 کے تحت اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان نے اس وقت بھارتی مؤقف کو مسترد کردیا تھا۔

پی این ایس حنین کی نمایاں خصوصیات

حالیہ واقعے میں زیرِ بحث آنے والا پی این ایس حنین پاکستان بحریہ کا جدید آف شور پیٹرول ویسل ہے۔ یہ جہاز یرموک کلاس سے تعلق رکھتا ہے اور اسے سمندری نگرانی، دفاع اور مختلف نوعیت کی کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

رومانیہ کے ڈیمن شپ یارڈ میں تیار کیا گیا یہ جہاز جولائی 2024ء میں پاک بحریہ کے بیڑے کا حصہ بنا۔

پی این ایس حنین تقریباً 98 میٹر طویل ہے اور جدید سینسرز، برقی جنگی صلاحیتوں اور دفاعی نظام سے لیس ہے۔ جہاز پر مختلف نوعیت کے ریموٹ کنٹرولڈ ہتھیار نصب ہیں جبکہ اسے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کے استعمال کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس جہاز میں تقریباً 60 اہلکاروں کے لیے گنجائش ہے اور اسے طویل عرصے تک سمندر میں تعینات رہنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 22 ناٹ جبکہ آپریشنل رینج تقریباً 6 ہزار ناٹیکل میل بتائی جاتی ہے۔

حالیہ بحری واقعے کی تفصیلات اور ذمہ داری سے متعلق دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔ اس لیے واقعے کی حتمی نوعیت اور معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی کا تعین متعلقہ شواہد اور سرکاری تحقیقات کی روشنی میں ہی کیا جا سکے گا۔

Leave a reply