پابندیوں کے باوجود آن لائن پلیٹ فارمز پر مبینہ پارے والی اسکن وائٹننگ کریموں کی فروخت جاری

0
16
پابندیوں کے باوجود آن لائن پلیٹ فارمز پر مبینہ پارے والی اسکن وائٹننگ کریموں کی فروخت جاری

ویب ڈیسک: عالمی سطح پر پارے پر مشتمل جلد کو سفید یا ہلکا کرنے والی مصنوعات کے خلاف قوانین موجود ہونے کے باوجود متعدد آن لائن مارکیٹ پلیسز پر ایسی کریموں کی دستیابی کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق امریکا، فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات اور بیلجیم سمیت مختلف ممالک میں معروف ای کامرس پلیٹ فارمز کے تھرڈ پارٹی سیلرز کی جانب سے ایسی مصنوعات فروخت کے لیے پیش کی گئیں جن کے بارے میں پارے کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مختلف پلیٹ فارمز پر 20 سے زائد مشتبہ مصنوعات کی نشاندہی کی گئی، تاہم ان میں پارے کی موجودگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔ بعض مصنوعات کی پیکیجنگ یا آن لائن تفصیلات میں پارے کو بطور جزو بھی درج نہیں کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق پارے پر مشتمل مصنوعات جلد کو نسبتاً تیزی سے ہلکا کر سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض صارفین کم قیمت اور فوری نتائج کے باعث ان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ تاہم پارے سے طویل یا زیادہ مقدار میں نمائش صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پارہ گردوں، دماغ اور اعصابی نظام سمیت انسانی جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی نوعیت کے خطرات کے باعث عالمی سطح پر پارے کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض مشتبہ مصنوعات کو ایک پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد نئے نام، مختلف پیکیجنگ یا کسی دوسرے فروخت کنندہ کے ذریعے دوبارہ آن لائن پیش کیا جاتا ہے، جس سے ان کی نگرانی اور مستقل طور پر خاتمہ مشکل ہو جاتا ہے۔

کچھ معاملات میں ایسی مصنوعات کے نام تبدیل کرکے یا تصاویر میں اصل برانڈ کا نام چھپا کر فروخت کیے جانے کی بھی نشاندہی ہوئی۔ اس طریقہ کار سے صارفین کے لیے یہ جاننا مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس نوعیت کی مصنوعات خرید رہے ہیں۔

آن لائن مارکیٹ پلیسز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی پالیسیوں کے تحت پارے والی اور دیگر غیر قانونی مصنوعات کی فروخت کی اجازت نہیں۔ پلیٹ فارمز کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والی مصنوعات کو ہٹانے کے ساتھ ایسے سیلرز کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی ہے جو حفاظتی نظام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

متعلقہ پلیٹ فارمز کے مطابق مصنوعات کی نگرانی کے لیے فروخت کنندگان کی جانچ، ضروری دستاویزات اور بعض صورتوں میں لیبارٹری ٹیسٹنگ سمیت مختلف حفاظتی اقدامات استعمال کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تھرڈ پارٹی سیلرز پر مبنی آن لائن مارکیٹ پلیسز میں لاکھوں مصنوعات اور بڑی تعداد میں آزاد فروخت کنندگان کی موجودگی نگرانی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سمیت مختلف صحت اور ریگولیٹری ادارے بھی ماضی میں پارے والی جلد کو سفید کرنے والی مصنوعات کے خلاف کارروائی اور صارفین کو ان سے محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

فرانس میں بھی حالیہ دنوں ایک ایسی جلد کو ہلکا کرنے والی کریم کی واپسی کا نوٹس جاری کیا گیا جس کے بارے میں حکام نے پارے کی موجودگی اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔

صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق صارفین کو غیر معروف ذرائع سے خریدی گئی اسکن وائٹننگ کریموں کے استعمال سے محتاط رہنا چاہیے، خصوصاً ایسی مصنوعات سے جن کے اجزا واضح طور پر درج نہ ہوں یا جو غیر معمولی تیزی سے رنگت تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتی ہوں۔

ماہرین کے مطابق آن لائن فروخت کی نگرانی، سرحد پار تجارت کی روک تھام اور مختلف ممالک کے ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ طور پر نقصان دہ کاسمیٹکس صارفین تک نہ پہنچ سکیں۔

Leave a reply