ٹیسلا کا سائبر ٹرک منصوبہ محدود کرنے کا فیصلہ، کمپنی اب روبوٹیکسی پر توجہ دے گی

0
29
ٹیسلا کا سائبر ٹرک منصوبہ محدود کرنے کا فیصلہ، کمپنی اب روبوٹیکسی پر توجہ دے گی

امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے اپنے مشہور سائبر ٹرک منصوبے کو بتدریج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی اب اپنی توجہ خودکار ٹیکسیوں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے شعبوں پر مرکوز کرنا چاہتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع کمپنی کے پلانٹ میں سائبر ٹرک کی تیاری 2027 کے وسط تک مرحلہ وار بند کردی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد سائبرکیب نامی خودکار ٹیکسی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

سائبر ٹرک کو 2019 میں مستقبل کے جدید پک اَپ ٹرک کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا منفرد زاویہ دار ڈیزائن اور اسٹین لیس اسٹیل سے تیار کردہ باڈی ابتدا ہی سے صارفین اور ماہرین کی توجہ کا مرکز رہی، تاہم یہ گاڑی فروخت کے وہ اہداف حاصل نہیں کرسکی جن کی توقع کمپنی نے لگائی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 2025 کے دوران سائبر ٹرک کی 20 ہزار 237 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 38 ہزار 965 تھی۔ یوں ایک سال کے دوران فروخت میں تقریباً 48 فیصد کمی ہوئی۔ یہ کارکردگی ایلون مسک کے اس سابقہ ہدف سے بھی بہت کم رہی جس میں سالانہ ڈھائی لاکھ گاڑیاں فروخت کرنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

فروخت میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

سائبر ٹرک کی محدود مقبولیت کے پیچھے کئی عوامل سامنے آئے ہیں۔ گاڑی کے غیر روایتی ڈیزائن کو جہاں کچھ صارفین نے پسند کیا، وہیں روایتی پک اَپ ٹرک خریداروں کی ایک بڑی تعداد نے اسے قبول نہیں کیا۔

اس کے علاوہ گاڑی کو تکنیکی مسائل اور بار بار واپس منگوائے جانے کے معاملات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ امریکی حفاظتی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق سائبر ٹرک مختلف نقائص کی وجہ سے متعدد مرتبہ واپس منگوایا گیا، جن میں کچھ مسائل کی اصلاح کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس جبکہ بعض کے لیے جسمانی مرمت درکار تھی۔

یورپی مارکیٹ میں بھی اس گاڑی کے لیے مشکلات موجود ہیں، کیونکہ وہاں پیدل چلنے والوں کے تحفظ سے متعلق حفاظتی ضوابط نسبتاً سخت ہیں۔ سائبر ٹرک کی بیرونی ساخت اور نوکیلے ڈیزائن کے باعث ان معیارات پر پورا اترنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

ٹیسلا کی نئی ترجیح سائبرکیب

سائبر ٹرک کی پیداوار محدود کرنے کے فیصلے کے ساتھ ٹیسلا اب سائبرکیب منصوبے کو آگے بڑھانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ دو نشستوں پر مشتمل خودکار ٹیکسی ہے، جسے مستقبل میں بغیر ڈرائیور کے سفری سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کا حصہ بنانے کا منصوبہ ہے۔

سائبرکیب میں روایتی گاڑیوں کی طرح اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز موجود نہیں ہیں۔ اس کا ڈیزائن بھی عام گاڑیوں سے مختلف رکھا گیا ہے۔

کمپنی اس گاڑی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد یونٹس کا ہدف رکھتی ہے، تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید پیش رفت درکار ہے۔

کیا سائبر ٹرک مکمل طور پر ختم ہوجائے گا؟

ٹیسلا کی جانب سے فی الحال یہ مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی کہ سائبر ٹرک کی پیداوار ہمیشہ کے لیے ختم کی جارہی ہے یا مستقبل میں اسے کسی دوسرے پیداواری مرکز منتقل کیا جاسکتا ہے۔

کمپنی کے انجینئرنگ شعبے سے وابستہ حکام کا مؤقف ہے کہ سائبر ٹرک کی تیاری کے دوران حاصل ہونے والی تکنیکی مہارت مستقبل کے منصوبوں، بالخصوص سائبرکیب کی تیاری میں کام آئے گی۔

ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ ٹیسلا کی کاروباری ترجیحات میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ کمپنی اب روایتی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ خودکار ڈرائیونگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے۔

سائبر ٹرک کا مستقبل اب غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، تاہم اس منصوبے سے حاصل ہونے والا تجربہ ٹیسلا کی اگلی نسل کی گاڑیوں اور خودکار سفری ٹیکنالوجی کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

Leave a reply