
گرمی کی شدت میں ٹھنڈی لسی کا استعمال جہاں راحت کا باعث بنتا ہے، وہیں اس کے استعمال میں احتیاط بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق دہی سے تیار ہونے والا یہ روایتی مشروب جسم کو ٹھنڈک فراہم کرنے، پانی کی کمی دور کرنے اور نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے گرمیوں کے موسم میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے اور لوگ اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔
لسی میں موجود مفید بیکٹیریا (پروبائیوٹکس) معدے کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ یہ جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تاہم طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ مشروب ہر فرد کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔
جن افراد کو دودھ یا دہی سے الرجی ہو، ان کے لیے لسی کا استعمال پیٹ کی خرابی، گیس یا دست کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح نزلہ، زکام یا گلے کے مسائل میں مبتلا افراد کو بھی اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس کی ٹھنڈی تاثیر علامات کو بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم بلڈ پریشر کے مریض لسی احتیاط سے استعمال کریں کیونکہ یہ فشار خون کو مزید کم کر سکتی ہے۔
لسی سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے مناسب وقت اور مقدار میں پینا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق دوپہر کے وقت ایک گلاس لسی پینا بہترین رہتا ہے کیونکہ اس وقت ہاضمہ زیادہ فعال ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ گھر میں تیار کردہ تازہ لسی کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ بازار میں دستیاب لسی میں اکثر چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اعتدال کو مدنظر رکھا جائے، بہت زیادہ یا حد سے زیادہ ٹھنڈی لسی پینے سے گریز کیا جائے۔ اگر کسی کو کوئی طبی مسئلہ درپیش ہو تو لسی کو غذا کا حصہ بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔









