نظامِ شمسی کے بیرونی حصے میں نیا راز بے نقاب

0
17
نظامِ شمسی کے بیرونی حصے میں نیا راز بے نقاب

نظامِ شمسی کے دور دراز اور انتہائی سرد علاقے میں ایک نئی سائنسی دریافت نے ماہرینِ فلکیات کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ نیپچون سے بھی آگے واقع ایک برفانی خلائی جسم میں فضا کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جو اس سے پہلے صرف پلوٹو جیسے بڑے اجسام تک محدود سمجھے جاتے تھے۔

سائنسی جریدے Nature Astronomy میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس خلائی جسم کا نام (612533) 2002 XV93 ہے، جو ٹرانس نیپچونین آبجیکٹس کی ایک قسم ہے۔ اس کا قطر تقریباً 500 کلومیٹر ہے، جو پلوٹو جیسے اجسام کے مقابلے میں خاصا کم ہے، اس کے باوجود اس کے گرد نہایت پتلی فضا کی موجودگی حیران کن ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں، تاہم یہ فضا زمین کے مقابلے میں لاکھوں گنا کمزور ہے۔ اس دریافت نے اس پرانے تصور کو چیلنج کیا ہے کہ چھوٹے اور انتہائی سرد خلائی اجسام اپنی فضا برقرار نہیں رکھ سکتے۔

تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس فضا کی موجودگی کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اس جسم کے اندر سے گیسیں خارج ہو رہی ہوں، ممکنہ طور پر برفانی آتش فشانی عمل کے ذریعے۔ دوسری یہ کہ کسی بیرونی تصادم کے نتیجے میں عارضی طور پر گیسیں خارج ہوئیں، جنہوں نے ایک وقتی فضا تشکیل دی۔

اس تحقیق کے لیے جاپان میں قائم جدید زمینی دوربینوں کا استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں نے ایک خاص طریقہ اپنایا جس میں اس خلائی جسم کو ایک دور دراز ستارے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس عمل کے دوران ستارے کی روشنی میں آنے والی تبدیلیوں سے اس جسم کی ساخت اور فضا کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

یہ خلائی جسم Kuiper Belt میں واقع ہے، جو نیپچون سے آگے پھیلا ہوا برفانی اجسام کا وسیع علاقہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جسم تقریباً 4.5 ارب سال پرانا ہے اور نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ سورج کے گرد بیضوی مدار میں گردش کرتا ہے اور ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 247 سال لیتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس کی ساخت میں برف، چٹانیں اور ممکنہ طور پر نامیاتی مادے شامل ہو سکتے ہیں۔ دریافت کے وقت یہ سورج سے تقریباً 5.5 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کی فضا عارضی ثابت ہوتی ہے تو آنے والے برسوں یا دہائیوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ برقرار رہتی ہے یا موسمی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس کے اندر سے گیسوں کی مسلسل فراہمی جاری ہے۔

یہ دریافت نظامِ شمسی کے بیرونی حصے کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید گہرا کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کائنات میں اب بھی بہت سے راز پوشیدہ ہیں، جو دریافت ہونے کے منتظر ہیں۔

Leave a reply