ٹرمپ کی نئی اقتصادی جنگ، ایران کا دوٹوک جواب

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے امریکی حکومت کے اندرونی معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی نئی اقتصادی پالیسیوں کا مقصد ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے قرضوں اور شرح سود کے اخراجات جیسے مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ ان کے مطابق امریکی دباؤ کی پالیسی عالمی معیشت اور مختلف ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران کے خلاف دباؤ بڑھانے سے واشنگٹن کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے برعکس ایران میں امریکی پالیسیوں کے خلاف ردعمل مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایران کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا تہران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالے گا۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین نے بھی امریکی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ نہیں۔ بیجنگ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کریں۔
دریں اثنا امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اقتصادی دباؤ بڑھانے سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ امریکی اقدامات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر اقتصادی یا فوجی دباؤ میں مزید اضافے کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکا، اس کے اتحادیوں اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ مذاکرات کے لیے مقررہ مدت ختم ہوچکی ہے، تاہم آئندہ بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔








