ٹرمپ کا پاکستان اور قطر کے کردار کا اعتراف، ایران معاہدے کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دے دیا

0
11
ٹرمپ کا پاکستان اور قطر کے کردار کا اعتراف، ایران معاہدے کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت میں پاکستان اور قطر نے مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو خطے میں فوجی کارروائیاں مزید طویل ہو سکتی تھیں، جس سے کشیدگی اور معاشی نقصانات میں اضافہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے بھی جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی حمایت کی۔

امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرے گا اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے جو زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ انداز میں معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے مختلف ذرائع سے نگرانی جاری رہے گی۔

اسرائیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ بعض معاملات پر ان کے اور اسرائیلی قیادت کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے، خصوصاً لبنان اور حزب اللہ سے متعلق پالیسیوں پر۔ ان کے مطابق خطے میں مزید کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم خدمات انجام دیں۔ ان کے بقول اس معاہدے کی کامیابی میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر رہا اور اس سلسلے میں پاکستانی قیادت نے بھی مثبت تعاون کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی منجمد مالیاتی رقوم کے معاملے پر مستقبل میں مناسب فیصلہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ رقم بنیادی طور پر ایران کی ملکیت ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا معاہدے کے بدلے ایران کو براہِ راست مالی امداد فراہم نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ حالیہ معاہدہ خطے میں امن، معاشی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

Leave a reply