ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، فوج کو حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

0
6
ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، فوج کو حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ نہ ہوا تو امریکی فوج ایک لمحے کے نوٹس پر کارروائی کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے اہم رہنماؤں، خصوصاً قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جاسکے۔ ان کے مطابق اسی درخواست کے بعد امریکی فوج کو فوری کارروائی سے روک دیا گیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مکمل فوجی کارروائی کے لیے تیار تھا اور حملہ کسی بھی وقت ہوسکتا تھا، لیکن انہیں امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو امریکا اور خطے دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین اور دیگر عسکری حکام کو فی الحال حملہ روکنے کی ہدایت دی ہے تاکہ مذاکراتی عمل جاری رہ سکے۔ ان کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے سے باز رہنے کی یقین دہانی کراتا ہے تو امریکا اطمینان کا اظہار کرسکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کمزور ہوچکی ہے جبکہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔
دوسری جانب انہوں نے سان ڈیاگو کی ایک مسجد میں فائرنگ کے واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض امریکی میڈیا ادارے ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سی این این، دی نیویارک ٹائمز اور دی وال اسٹریٹ جرنل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں جانبدار قرار دیا۔

Leave a reply