سان ڈیاگو کی مسجد میں فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد جاں بحق

0
6
سان ڈیاگو کی مسجد میں فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد جاں بحق

سان ڈیاگو: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع ایک بڑی مسجد میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات نفرت انگیز جرم کے زاویے سے کی جا رہی ہیں۔ سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے بتایا کہ پولیس کو مسجد میں فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے کے چند منٹ بعد ہی اہلکار موقع پر پہنچ گئے، جہاں تین افراد مردہ حالت میں پائے گئے۔
جاں بحق افراد میں مسجد کا سیکیورٹی گارڈ بھی شامل تھا، جس کے بارے میں پولیس چیف نے کہا کہ اس نے نمازیوں کی جانیں بچانے میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق گارڈ نے حملے کے مزید نقصانات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درجنوں اہلکاروں نے مسجد اور اطراف کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ اسی دوران قریب ہی ایک اور فائرنگ کی اطلاع بھی ملی، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تفتیشی حکام کے مطابق بعد ازاں مسجد کے قریب ایک گاڑی سے دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں حملے میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔
ایف بی آئی اور مقامی پولیس مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ اور گاڑی سے ملنے والے شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ مسجد کے سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔
واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم کو بریفنگ دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک خوفناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب سان ڈیاگو اسلامک سینٹر کے امام طحہٰ حسان نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں کو محفوظ بنایا جانا چاہیے۔
مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا میں بڑھتے ہوئے مذہبی نفرت انگیز واقعات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا

Leave a reply