دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی صورتحال: نئی رپورٹ کے اہم انکشافات

0
4
دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی صورتحال: نئی رپورٹ کے اہم انکشافات

ایک حالیہ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد اور ان کی جدید کاری میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تخفیفِ اسلحہ کی عالمی کوششیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک دنیا میں نو ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار سے زائد ایٹمی وارہیڈز موجود تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد ذخائر میں رکھی گئی ہے، جبکہ ہزاروں وارہیڈز عملی طور پر میزائلوں اور فوجی نظاموں پر نصب ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں اب بھی امریکا اور روس ہیں، جن کے پاس مجموعی ذخائر کا بڑا حصہ موجود ہے۔ ان کے بعد چین، فرانس، برطانیہ، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

جنوبی ایشیا میں بھی ایٹمی دوڑ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں اپنے جوہری پروگراموں کو جدید اور وسیع کر رہے ہیں۔ بھارت کے پاس نسبتاً زیادہ وارہیڈز ہیں اور وہ زمین، فضا اور سمندر تینوں ذریعے سے حملے کی صلاحیت کو مضبوط بنا رہا ہے۔ پاکستان بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور مختلف میزائلزاورفضائی نظاموں کوبہتر بنارہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت کی حکمتِ عملی بنیادی طور پر “پہلے استعمال نہ کرنے” (No First Use) کے اصول پر مبنی ہے، جبکہ پاکستان کی حکمتِ عملی اس کے برعکس ہنگامی صورتحال میں پہلے استعمال کے امکان کو برقرار رکھتی ہے۔

عالمی سطح پر چین کا ایٹمی پروگرام سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ امریکا اور روس کو اپنے جدید دفاعی منصوبوں میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے۔ برطانیہ اور فرانس بھی اپنی دفاعی پالیسیوں میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف کے معاہدے کمزور ہوئے ہیں، اور بڑے عالمی معاہدوں کی میعاد ختم یا غیر مؤثر ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے دفاعی نظاموں میں استعمال، مستقبل میں غلط فہمی یا حادثاتی تصادم کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے، جس سے عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Leave a reply