ورلڈ ملیریا ڈے: عام بخار اور ملیریا میں فرق سمجھنے کی اہمیت پر زور

0
22
ورلڈ ملیریا ڈے: عام بخار اور ملیریا میں فرق سمجھنے کی اہمیت پر زور

دنیا بھر میں 25 اپریل کو ’ورلڈ ملیریا ڈے‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس مہلک مگر قابلِ علاج بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس سے بچاؤ کی تدابیر کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے دوران ہونے والے بخار کو معمولی سمجھنے کے بجائے اس کی درست تشخیص انتہائی اہم ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بخار بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم میں کسی انفیکشن کی علامت ہوتا ہے، اور مختلف اقسام کے بخار مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ عام طور پر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن جیسے نزلہ، زکام اور فلو کی صورت میں ہونے والا بخار بتدریج بڑھتا ہے، جس کے ساتھ جسم میں درد، گلا خراب ہونا، کمزوری اور ہلکی کپکپی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس نوعیت کا بخار اکثر چند دن میں آرام، مناسب پانی اور عام ادویات کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس ملیریا ایک مخصوص جرثومے پلازموڈیم کی وجہ سے ہوتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری کی نمایاں علامت بخار کا وقفے وقفے سے آنا ہے۔ مریض کو اچانک تیز بخار، شدید کپکپی اور بعد میں پسینہ آنے کے بعد وقتی آرام محسوس ہوتا ہے، تاہم کچھ وقت بعد بخار دوبارہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ملیریا کے مریضوں میں سر درد، متلی، قے اور شدید تھکن بھی عام علامات ہیں۔ چونکہ بخار کے وقفوں میں مریض خود کو نسبتاً بہتر محسوس کرتا ہے، اس لیے اکثر افراد علاج میں تاخیر کر دیتے ہیں، جو بیماری کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ماہرین صحت نے ہدایت کی ہے کہ اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا بار بار کپکپی اور پسینہ آنے کی شکایت ہو تو فوری طور پر طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ ملیریا کی تشخیص خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس کا مؤثر علاج مخصوص ادویات سے ممکن ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں ملیریا جگر، گردوں اور خون کی کمی جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے صفائی کا خیال رکھنا، مچھروں سے بچاؤ اور صاف پانی کا استعمال اس بیماری سے بچاؤ کے بنیادی اقدامات ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق عام بخار اکثر خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے، تاہم ملیریا کی صورت میں فوری تشخیص اور درست علاج نہایت ضروری ہے تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

Leave a reply