
سائنسدانوں نے وائی فائی ٹیکنالوجی کے ایک ایسے ممکنہ استعمال کا انکشاف کیا ہے جو مستقبل میں انسانی پرائیویسی کے لیے اہم سوالات اٹھا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق عام وائرلیس نیٹ ورک کے ریڈیو سگنلز کا تجزیہ کرکے کسی جگہ موجود افراد کی شناخت اور ان کی موجودگی سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
جرمنی کے انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن سکیورٹی اینڈ ڈیپنڈایبلٹی سے وابستہ محققین نے 197 افراد پر تجربات کیے۔ محققین کے مطابق کنٹرول ماحول میں وائی فائی سگنلز کے ذریعے افراد کی شناخت میں تقریباً 100 فیصد تک درستگی حاصل کی گئی۔
اس طریقے میں وائی فائی ریڈیو لہروں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ انسانی جسم کی موجودگی سے سگنلز کے انعکاس اور سمت میں تبدیلی آتی ہے، جسے جدید سسٹمز استعمال کرکے اردگرد کے ماحول اور وہاں موجود افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
تحقیق کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس عمل کے لیے ضروری نہیں کہ متعلقہ شخص کے پاس اسمارٹ فون یا کوئی وائی فائی ڈیوائس موجود ہو۔ محققین کے مطابق عام وائرلیس آلات سے خارج ہونے والے سگنلز بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بعض شعبوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ممکنہ نگرانی کے استعمال سے پرائیویسی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر وائی فائی نیٹ ورک کسی جگہ موجود افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو لوگوں کی رضامندی اور رازداری کے تحفظ کے لیے نئے ضوابط کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ وائرلیس نیٹ ورکس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ریڈیو سگنلز پر مبنی نگرانی مستقبل میں ایک اہم پرائیویسی چیلنج بن سکتی ہے۔









